
لاہور، 30 ستمبر 2026 (نوشین): پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور نے عیسائی میرج بل 2026 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی، جس میں پنجاب میں عیسائی شادیوں کے لیے نیا قانونی فریم ورک تجویز کیا گیا ہے۔ بل میں عیسائی میرج ایکٹ 1872 کو تبدیل کرنے اور مرد و خواتین دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت شادی کے دونوں فریقوں کا عیسائی ہونا ضروری ہوگا، جبکہ شادی سے قبل تحریری نوٹس اور اس کی اشاعت کا باقاعدہ طریقہ کار بھی متعارف کرایا جائے گا۔ بل میں عیسائی شادیوں کی یونین کونسلز اور نادرا کے ساتھ لازمی رجسٹریشن کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ تمام رجسٹرڈ گرجا گھروں میں مجاز پادریوں، مذہبی عہدیداروں یا حکومت کی جانب سے مقرر کردہ میرج رجسٹرارز کے ذریعے شادی کی اجازت ہوگی۔ شادی کی تقریب کے لیے کم از کم دو گواہوں کی موجودگی ضروری ہوگی جبکہ سرکاری ریکارڈ مقررہ رجسٹرز اور فارم کے ذریعے محفوظ کیا جائے گا۔ بل کے محرک فلبوس کرسٹوفر نے کہا کہ مجوزہ قانون کا مقصد موجودہ قانونی نظام کو جدید اور جامع بنانا، آزادانہ رضامندی کے تحفظ کو مضبوط کرنا اور عیسائی شادیوں سے متعلق قانونی وضاحت فراہم کرنا ہے۔ کمیٹی کی متفقہ منظوری کے بعد بل کو پنجاب اسمبلی میں غور اور منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔