Wednesday, September 16

شام کی پارلیمنٹ نے اسد دور کی انسداد دہشت گردی عدالت ختم، فیصلوں کے قانونی اثرات بھی منسوخ کردیئے

Syria parliament votes to abolish Assad-era terrorism court, nullify rulings

دمشق، 16 ستمبر 2026 (کامران راجہ): شام کی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز سابق صدر بشار الاسد کے دور میں قائم کی گئی انسداد دہشت گردی عدالت ختم کرنے اور اس کے فیصلوں کے قانونی اثرات منسوخ کرنے کی منظوری دے دی، جسے ملک کی نئی پارلیمنٹ کے پہلے اہم قانون سازی اقدامات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت 2012 میں اس وقت قائم کی گئی تھی جب بشار الاسد نے اپنی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کو دبانے کی کوشش کی اور اس عدالت کے ذریعے دہشت گردی سے متعلق الزامات میں ہزاروں شامی شہریوں کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ پارلیمنٹ کی منظوری سے عدالت کا خاتمہ باضابطہ ہوگیا ہے، جبکہ شام کی نئی حکومت پہلے ہی اسے غیر فعال قرار دے چکی تھی۔ جون 2025 میں صدر احمد الشرع نے عدالت میں خدمات انجام دینے والے 67 ججوں کو برطرف کیا تھا اور اس وقت اسے “ختم شدہ انسداد دہشت گردی عدالت” قرار دیا تھا۔ مارچ 2025 کے آئینی اعلامیے میں بھی عدالت کے ایسے فیصلوں کے اثرات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جنہیں غیر منصفانہ قرار دیا گیا، جس میں ضبط شدہ املاک کی واپسی بھی شامل تھی۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے 2024 میں کہا تھا کہ عدالت کے قیام سے متعلق قانون میں بنیادی عدالتی ضمانتوں کا مناسب تحفظ نہیں کیا گیا اور من مانی حراست، تشدد یا ناروا سلوک اور عدالت کی آزادی سے متعلق خدشات ظاہر کیے تھے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں سابق حکومت کے حراستی نظام میں وسیع پیمانے پر منظم تشدد اور ناروا سلوک کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔ یہ ووٹنگ شام میں دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد تشکیل پانے والی پہلی پارلیمنٹ کے ابتدائی ہفتوں کے دوران ہوئی، جس کا پہلا اجلاس جولائی میں منعقد ہوا تھا۔ پارلیمنٹ کے ابتدائی اجلاسوں میں داخلی قواعد اور کمیٹیوں کے قیام پر توجہ دی گئی، جبکہ حالیہ دنوں میں تعلیم اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت مختلف معاملات پر حکومتی وزرا سے بھی سوالات کیے گئے۔