
ویانا، 14 ستمبر 2026 (کامران راجہ): ایران نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں سے استثنیٰ کی مخالفت کے باعث ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کو اس ہفتے ویانا میں ہونے والی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جنرل کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا۔ محمد اسلامی کو آئی اے ای اے کے رکن ممالک کے سالانہ اجلاس میں شرکت اور خطاب کرنا تھا، تاہم ایران کے مطابق آسٹریا نے ابتدائی طور پر ویزا جاری کرنے کے بعد اسے منسوخ کردیا۔ آئی اے ای اے میں ایران کے سفیر نے فیصلے کو سیاسی اقدام اور ادارے کی بڑھتی ہوئی سیاسی نوعیت کا واضح ثبوت قرار دیا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر آسٹریا کو اس اقدام کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ ایران اور روس نے بھی کہا کہ یہ اقدام ایرانی حکام کو بین الاقوامی سفر کے لیے ویزے کے حصول سے روکنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے محمد اسلامی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ’’اسنیپ بیک‘‘ پابندیوں کے طریقہ کار کے تحت عائد سفری پابندیوں کے باعث استثنیٰ دینے کی مخالفت کی۔ آسٹریا نے تصدیق کی کہ اس نے محمد اسلامی کے لیے متعلقہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی کمیٹی سے استثنیٰ طلب کیا تھا، تاہم امریکی مخالفت کے بعد درخواست مسترد کردی گئی۔ امریکی سفیر پریسٹن ویلز گریفتھ سوم نے کہا کہ واشنگٹن نے استثنیٰ کی مخالفت اس خدشے کے باعث کی کہ محمد اسلامی کی شرکت سے ایران آئی اے ای اے کی کارروائیوں کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرسکتا ہے اور جوہری تعاون سے متعلق بنیادی معاملات سے گریز کرسکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کے جوہری معائنے کے معاملے پر کشیدگی جاری ہے۔