
تائز، 14 ستمبر 2026 (نوشین): خلیجی عرب ریاستوں نے ایران کے ساتھ پیر کو ہونے والا مجوزہ اجلاس ملتوی کردیا ہے، جبکہ یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب پر نیا حملہ کیا ہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ مزید پھیلنے اور عالمی تیل کی فراہمی کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ائیر بیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جن میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ حوثیوں نے اس کارروائی کو یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں انتقامی کارروائی قرار دیا۔ سعودی حکام نے خمیس مشیط سمیت جنوبی علاقوں کے تین دیگر شہروں میں ہنگامی الرٹس جاری کیے جہاں ماضی میں بھی حوثیوں کے حملے ہوچکے ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے دہانے کے قریب ایک جزیرے پر قبضہ کرلیا، جبکہ اسی روز ایک الگ حملے میں سعودی عرب کی مشرق سے مغرب جانے والی تیل پائپ لائن کو نقصان پہنچا، جس کا الزام ریاض نے عراق میں موجود ایران نواز جنگجوؤں پر عائد کیا۔ عالمی منڈی میں کاروبار دوبارہ شروع ہونے پر خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل کے سودے 109 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئے، جبکہ تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ سعودی پائپ لائن کی بندش چند روز سے زیادہ جاری رہنے کی صورت میں عالمی تیل کی سپلائی کا 4 فیصد تک متاثر ہوسکتا ہے۔ عمان کو ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات کی میزبانی کرنا تھی، تاہم عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے اجلاس کو اتفاق رائے کے مفاد میں ملتوی کیے جانے کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے کہا کہ اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر ملتوی کیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنے طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 77 بحری جہازوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان جہازوں کو مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے پر جرمانے، حراست یا ضبطی سمیت مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔