Monday, September 14

ایران نے سعودی پائپ لائن پر حملے میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کردیئے

Iran Dismisses Allegations of Involvement in Saudi Pipeline Attack

تہران، 14 ستمبر 2026 (غفران): ایران نے سعودی تیل پائپ لائن پر حملے میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کردیئے ہیں، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ حالیہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کیے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’بڑی جنگی کارروائیوں‘‘ کے آغاز کا اعلان کیا۔ امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں ایران اور امریکا نے 8 اپریل کو دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا، جبکہ پاکستان نے اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان 47 سال بعد پہلی بار براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی۔ اگرچہ مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے، تاہم فریقین نے سفارتی کوششیں جاری رکھیں اور 20 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات جبکہ یکم جولائی کو دوحہ میں بات چیت ہوئی۔ صورتحال ایک بار پھر اس وقت بگڑ گئی جب امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں 8 جولائی کو ایران پر حملے کیے، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کی۔ اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان فائرنگ اور حملوں کا تبادلہ جاری ہے جبکہ چھ ماہ سے جاری تنازع میں تعطل برقرار ہے اور تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی خطے کے لیے ایک بڑا تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔