
عدن/دبئی، 12 ستمبر 2026 (نوشین): سعودی عرب نے مشرقی اور مغربی علاقوں کو ملانے والی اپنی اہم تیل پائپ لائن فضائی حملے کے بعد بند کردی ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ پائپ لائن مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران فضائی حملے کا نشانہ بنی، جبکہ بغداد اور ریاض دونوں نے کہا ہے کہ حملہ عراق سے کیا گیا تھا، جہاں ایران نواز ملیشیائیں سرگرم ہیں۔ حملے کے ردعمل میں عراق نے ہفتے کے روز ایک فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا۔ تقریباً 1200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن جزیرہ نما عرب کے راستے سعودی عرب کے تیل کو آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سعودی وزارت توانائی نے بتایا کہ پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا ہے۔ شپ ٹریکنگ کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا رہا تھا، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد بنتا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران نواز یمنی حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی ہے۔ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں کے باعث جزیرہ نما عرب کے دونوں جانب توانائی کی ترسیل دباؤ کا شکار ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔