
نئی دہلی، 12 ستمبر 2026 (غفران): چینی صدر شی جن پنگ ہفتے کے روز برکس سربراہ اجلاس میں شرکت اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے۔ بھارتی ٹی وی چینلز کے مطابق شی جن پنگ کا بھارت کا یہ سات سال بعد پہلا دورہ ہے اور یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ایشیائی ممالک 2020 میں متنازع ہمالیائی سرحد پر ہونے والی خونریز جھڑپ کے بعد تعلقات کی بحالی کی محتاط کوششیں کر رہے ہیں، جس میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ شی جن پنگ کی نئی دہلی آمد پر ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، جبکہ خواتین نے روایتی بھارتی رقص پیش کرکے ان کا خیرمقدم کیا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق شی جن پنگ اور نریندر مودی کی ہفتے کی شام ہونے والی ملاقات تین سال کے دوران دونوں رہنماؤں کی تیسری ملاقات ہوگی۔ چین نے بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک اور طویل المدتی نقطہ نظر سے تعاون، اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان اچھے ہمسایوں، دوستوں اور باہمی تعاون کے شراکت داروں کے طور پر تعلقات مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ برکس گروپ میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ برکس سربراہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ اور روس یوکرین تنازع کے باعث عالمی سطح پر توانائی، تجارت اور نقل و حمل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔