
تہران، 6 ستمبر، 2026 (غفران) – ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب اور ترکیہ کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کے دوران موجودہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ تینوں وزرائے خارجہ نے کشیدگی میں کمی لانے اور موجودہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں اور ممکنہ اقدامات پر بھی بات کی۔ دریں اثنا، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوار کو مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے اجلاس میں طے پانے والی مفاہمت پر عملدرآمد کے لیے آئندہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی صورتحال سمیت کثیرالجہتی فورمز پر باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں 31 اگست کو استنبول میں مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں طے پانے والی مفاہمت پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا گیا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔