
اقوام متحدہ، 6 ستمبر، 2026 (کامران راجہ) – اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) کی نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال جنوری اور فروری میں مقبوضہ مغربی کنارے کے تین فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کی پوری آبادی کو ’’زبردستی‘‘ بے گھر کیا اور انہیں واپس آنے سے روکنا جاری رکھا ہوا ہے، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی ’آپریشن آئرن وال‘ کارروائی کے دوران تعینات فوجی، پولیس اور دیگر فورسز نے شہریوں کو ہلاک کیا، سیکڑوں گھروں کو تباہ کیا، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کی اور جنین، نور شمس اور طولکرم کے پناہ گزین کیمپوں تک انسانی امداد کی رسائی روک دی۔ اسرائیلی فورسز نے گھر گھر جا کر رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کے احکامات دیے۔ بعض بے گھر فلسطینیوں نے او ایچ سی ایچ آر کو بتایا کہ اسرائیلی اہلکاروں نے کہا کہ اب مزید پناہ گزین کیمپ نہیں ہوں گے اور انہیں ’’سب کو اردن چلے جانا چاہیے‘‘۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 تک جنین پناہ گزین کیمپ کی 52 فیصد، نور شمس کی 48 فیصد اور طولکرم کی 36 فیصد عمارتیں تباہ یا متاثر ہو چکی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران 33,000 سے زائد فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر، طویل مدتی اور منظم بے دخلی سے انسانیت کے خلاف جرم، یعنی جبری منتقلی، کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔