Wednesday, September 30

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے کی ایل نینو سے شدید موسمی حالات کی وارننگ

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے کی ایل نینو سے شدید موسمی حالات کی وارننگ

اقوام متحدہ، 5 ستمبر 2026 (کامران راجہ) – عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے مضبوط ہوتا ہوا ایل نینو موسمیاتی نظام فروری 2027 تک جاری رہ سکتا ہے اور دنیا بھر میں شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور دیگر خطرناک موسمی حالات کا باعث بن سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جس کے باعث ایل نینو رواں سال کے اختتام تک انتہائی مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ ادارے کے مطابق بحرالکاہل کے بعض علاقوں میں سمندر کی سطح کے نیچے پانی کا درجہ حرارت معمول سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ستمبر سے نومبر کے دوران دنیا کے تقریباً تمام علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت رہنے کی توقع ہے، جبکہ بعض خطوں میں شدید بارشوں اور سیلاب اور دیگر علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے سے گرم ہوتی ہوئی زمین اور سمندر ایل نینو کے بعض اثرات کو مزید شدت دے سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے کی سربراہ سیلیسٹی ساؤلو نے کہا ہے کہ ایل نینو دنیا بھر میں آبادی اور معیشتوں کے لیے بڑے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔ بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت اور مختلف ممالک کے موسمیاتی ادارے پیشگی انتباہی نظام اور موسمیاتی پیش گوئی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تعاون کر رہے ہیں تاکہ زراعت، صحت، توانائی اور پانی کے شعبوں کو ممکنہ نقصانات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جاسکے۔

اقوام متحدہ، 5 ستمبر 2026 (کامران راجہ) – عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے مضبوط ہوتا ہوا ایل نینو موسمیاتی نظام فروری 2027 تک جاری رہ سکتا ہے اور دنیا بھر میں شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور دیگر خطرناک موسمی حالات کا باعث بن سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جس کے باعث ایل نینو رواں سال کے اختتام تک انتہائی مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ ادارے کے مطابق بحرالکاہل کے بعض علاقوں میں سمندر کی سطح کے نیچے پانی کا درجہ حرارت معمول سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ستمبر سے نومبر کے دوران دنیا کے تقریباً تمام علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت رہنے کی توقع ہے، جبکہ بعض خطوں میں شدید بارشوں اور سیلاب اور دیگر علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے سے گرم ہوتی ہوئی زمین اور سمندر ایل نینو کے بعض اثرات کو مزید شدت دے سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے کی سربراہ سیلیسٹی ساؤلو نے کہا ہے کہ ایل نینو دنیا بھر میں آبادی اور معیشتوں کے لیے بڑے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔ بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت اور مختلف ممالک کے موسمیاتی ادارے پیشگی انتباہی نظام اور موسمیاتی پیش گوئی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تعاون کر رہے ہیں تاکہ زراعت، صحت، توانائی اور پانی کے شعبوں کو ممکنہ نقصانات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جاسکے۔