Thursday, September 3

اقوام متحدہ کا انتباہ، ایل نینو تاریخ کا شدید ترین موسمیاتی واقعہ بن سکتا ہے

UN Warns El Nino Could Become Strongest Ever Recorded

جنیوا، 03 ستمبر 2026 (غفران): اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو شدت اختیار کرکے اب تک ریکارڈ کیے گئے شدید ترین واقعات میں شامل ہوسکتا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ’’شدید موسمی حالات کے خطرناک زون‘‘ میں داخل ہو رہی ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے مطابق ایل نینو آئندہ چند ماہ کے دوران ’’بہت شدید‘‘ ہونے کا امکان ہے اور فروری تک برقرار رہنے کا تقریباً یقینی امکان ہے۔ یہ قدرتی موسمیاتی مظہر وسطی اور مشرقی خطِ استوا بحرالکاہل کے سمندری پانی کی سطح کا درجہ حرارت بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے نظام میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ ڈبلیو ایم او کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ایل نینو گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ریکارڈ کیے گئے کسی بھی واقعے سے زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔ ڈبلیو ایم او کے مطابق ایل نینو رواں سال کے اختتام کے قریب عروج پر پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کے عالمی موسمیاتی اثرات 2027 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ سمندروں میں موجود حرارت بتدریج فضا میں منتقل ہوتی ہے، جس کے باعث اگلے سال عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈبلیو ایم او نے کہا کہ 2023-24 کا شدید ایل نینو 2024 کو ریکارڈ کا گرم ترین سال بنانے میں معاون ثابت ہوا تھا اور آئندہ یہ ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان بھی موجود ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ شدت اختیار کرتا ایل نینو بارش اور درجہ حرارت کے نظام میں بڑی تبدیلیاں لا سکتا ہے، جس سے سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کے خطرات میں اضافہ ہوگا۔ ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے اور براہ راست موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم سائنس دانوں کے مطابق فوسل فیولز کے استعمال کے باعث پہلے ہی گرم ہوتی دنیا میں یہ شدید گرمی اور موسمیاتی شدت میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ایل نینو غیر معمولی شدت اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سمندری سطح کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور عالمی حدت کے باعث دنیا شدید موسمی خطرات کے ایک غیر معمولی دور میں داخل ہو رہی ہے۔انتونیو گوتریس نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شدید موسمی حالات کے بڑھتے ہوئے اثرات سے عوام کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔