Monday, August 31

این سی ایس ڈبلیو کا خواتین اور بچیوں کے خلاف بڑھتے تشدد اور زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر پولیس کارروائی کا مطالبہ

NCSW Demands Immediate and Effective Police Action to Curb Surge in Violence Against Women and Girls

اسلام آباد، 31 اگست 2026 (غفران): قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں  کی چیئرپرسن محترمہ نورین بانو لہڑی کی زیر صدارت پاکستان بھر کے سینئر پولیس افسران کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد، زیادتی، قتل، ہراسانی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو نے خواتین اور بچیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حنا جاوید، آیت نور اور اسماء جٹک کے مقدمات سمیت سندھ میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا بھی سخت نوٹس لیا، جن میں کراچی میں تین سالہ کلثوم محمد قاسم اور 18 ماہ کی ایزل کی المناک اموات بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے شکارپور میں نو سالہ بچی کے مبینہ جنسی استحصال کے حالیہ واقعے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ محترمہ نورین بانو لہڑی نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے ہر مقدمے میں فوری، شفاف اور میرٹ پر مبنی تحقیقات، مؤثر پراسیکیوشن اور بروقت انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور تحقیقات میں غفلت، تاخیر یا ناکامی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔این سی ایس ڈبلیو نے صنفی بنیاد پر تشدد  کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت اور طویل تاخیر سے بچنے کے لیے خصوصی عدالتوں یا مخصوص عدالتی نظام کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔

کمیشن نے پولیس کو ہدایت کی کہ ایسے علاقوں میں گشت، نگرانی اور حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا جائے جہاں خواتین اور بچیوں کو گھروں کے اندر یا باہر خطرات کا سامنا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی خواتین کو پولیس کی دستیاب خدمات، شکایات درج کرانے کے طریقہ کار اور ہنگامی حالات میں فوری تحفظ اور امداد حاصل کرنے کے ذرائع سے مکمل طور پر آگاہ کیا جائے۔ این سی ایس ڈبلیو نے مدارس، اسکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں کی مؤثر نگرانی پر بھی زور دیا تاکہ ہراسانی، بدسلوکی اور تشدد کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔ طلبہ کے لیے صنفی بنیاد پر تشدد سے متعلق آگاہی اور روک تھام کے جامع پروگرام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، جبکہ بالخصوص لڑکوں اور نوجوانوں کو خواتین کے احترام، ذمہ دارانہ رویے اور ان کے حقوق و وقار کے تحفظ کے حوالے سے تعلیم و تربیت دینے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی۔ چیئرپرسن نے پولیس افسران، تفتیشی افسران، ڈاکٹروں، پراسیکیوٹرز، عدالتی افسران اور جیل عملے کی خصوصی تربیت اور استعداد کار میں اضافے کی ہدایت کی تاکہ صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات اور متاثرین سے حساس اور مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات کی تفتیش کرنے والے تمام انویسٹی گیشن افسران کو مناسب تربیت فراہم کی جائے اور اہم تحقیقات کے دوران انہیں بلاوجہ تبدیل، عہدے سے ہٹایا یا اضافی ذمہ داریوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔این سی ایس ڈبلیو نے غیر قانونی جرگوں کے خلاف سخت کارروائی اور ان کی مؤثر نگرانی کا بھی مطالبہ کیا تاکہ متوازی یا غیر قانونی نظام خواتین کے حقوق، قانونی طریقہ کار اور انصاف تک رسائی کو متاثر نہ کر سکیں۔

کمیشن نے ہدایت کی کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات کا کیس ٹو کیس ڈیٹا ہر ماہ شیئر اور اس کا جائزہ لیا جائے۔ تمام انسپکٹر جنرلز آف پولیس (آئی جی پیز) کو تحقیقات، پراسیکیوشن، زیر التوا مقدمات، درپیش مشکلات، استعداد کار میں اضافے کے اقدامات اور خواتین و بچیوں کے خلاف تشدد پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات سے متعلق باقاعدگی سے رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ این سی ایس ڈبلیو نے اپنے شکایات کے انتظامی نظام  کو پولیس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مؤثر طور پر منسلک کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ شکایات کی بروقت منتقلی، کارروائی اور فالو اَپ یقینی بنایا جا سکے۔ تمام آئی جی پیز کو خواتین کے تحفظ، شکایات کے حوالہ جاتی نظام اور فوری ردعمل کو مضبوط بنانے کے لیے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹس اور صوبائی کمیشن برائے وقارِ نسواں کے ساتھ براہِ راست رابطہ کاری برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ خواتین قیدیوں کے حوالے سے کمیشن نے ان کی فلاح و بہبود، تحفظ اور بحالی کی خصوصی نگرانی کی ہدایت کی۔ کمیشن نے کہا کہ پیداواری یا فنی کام میں مصروف خواتین قیدیوں کو ان کی محنت کا منصفانہ معاوضہ دیا جائے اور مساوی نوعیت کے کام پر انہیں مرد قیدیوں سے کم اجرت نہ دی جائے۔ کمیشن نے خواتین قیدیوں کو تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، مالیاتی امور سے متعلق آگاہی اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا تاکہ وہ رہائی کے بعد باوقار اور خودمختار زندگی دوبارہ شروع کر سکیں اور معاشرے میں مثبت طور پر دوبارہ ضم ہو سکیں۔

اجلاس میں ایس ایس پی انویسٹی گیشنز پنجاب خرم شہزاد، ڈی آئی جی کرائمز خیبر پختونخوا محمد حسین، سندھ سے ایس ایس پی کامر رضوی اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آپریشنز) بلوچستان شہزاد اکبر سمیت وفاقی اداروں کے متعلقہ سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔ چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو محترمہ نورین بانو لہڑی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین اور بچیوں کا تحفظ اور سلامتی ریاست کی ناقابلِ سمجھوتہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حنا جاوید، آیت نور، اسماء جٹک، کلثوم محمد قاسم، ایزل اور دیگر متاثرین کے مقدمات محض اعداد و شمار بن کر نہیں رہنے چاہئیں بلکہ انہیں فوری ادارہ جاتی اصلاحات، مضبوط حفاظتی نظام اور مؤثر انصاف کے لیے محرک بننا چاہیے۔انہوں نے کہا، “خواتین اور بچیوں کی سلامتی، عزت اور بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ غفلت، کمزور تحقیقات، غیر ضروری تاخیر اور مجرموں کو سزا سے بچنے کی اجازت ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ ہر ادارے کو صنفی بنیاد پر تشدد کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے، متاثرین کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے قابلِ پیمائش اور نتیجہ خیز اقدامات کرنا ہوں گے۔”