
اسلام آباد، 30 اگست (کامران راجہ): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت اور پاکستان کی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان زرعی اور غذائی تحفظ کی شراکت داری کے فروغ کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ یہ پیش رفت سعودی وفد کے 26 سے 28 اگست 2026ء تک اسلام آباد کے دورے کے دوران سامنے آئی۔ سعودی وفد کی قیادت وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمٰن اے۔ الفضلی نے کی، جس میں وزارت ماحولیات، پانی و زراعت، جنرل فوڈ سکیورٹی اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی سعودی وفد سے ملاقات کی اور باہمی تعاون کے مختلف ممکنہ شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کی۔ وفد میں سیکرٹری تجارت جواد پال، سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق عامر علی احمد، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر اور چاول، سرخ گوشت، پراسیسڈ فوڈ و فروٹ کنسنٹریٹ اور سبز چارے کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے نجی شعبے کے نمائندگان شامل تھے۔
دورے کے دوران سعودی وفد کو پاکستان سعودی عرب ایگریکلچر اینڈ فوڈ اسٹریٹجک پلان پر بریفنگ دی گئی۔ وفد نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل فوجی فاؤنڈیشن اور پاکستان سعودی عرب ایگری بزنس فورم کے حکام سے ملاقاتیں بھی کیں جبکہ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کا دورہ بھی کیا۔ دونوں فریقین نے 1947ء سے جاری پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ دونوں جانب سے سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت غذائی تحفظ کی ترجیحات اور پاکستان کے زرعی و غذائی برآمدی شعبے کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو اجاگر کیا گیا۔ دونوں ممالک نے پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات کو 3 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا اور اس ہدف کے حصول کے لیے آئندہ دو سال کے دوران کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے چاول، سرخ گوشت، پھل اور ان کے کنسنٹریٹس، سبز چارہ اور پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی زرعی ٹیکنالوجیز کو سعودی نجی شعبے کے تعاون سے ترجیحی شعبے قرار دیا گیا۔ دونوں جانب نے نوٹ کیا کہ پاکستان نے 2025ء میں سعودی عرب کی منڈی کو تقریباً 169 ہزار ٹن چاول فراہم کیے، جن کی مالیت تقریباً 163 ملین امریکی ڈالر تھی۔ سعودی وفد نے آئندہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان چاول کی دوطرفہ تجارت مزید بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
سرخ گوشت کے شعبے میں دونوں فریقین نے پاکستان کی جانب سے سالانہ تقریباً 30 ہزار ٹن سرخ گوشت کی فراہمی کا جائزہ لیا، جس کی مالیت تقریباً 167 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔ سعودی فریق نے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمدات کو بتدریج دوگنا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ پھلوں اور ان کے کنسنٹریٹس کے حوالے سے دونوں جانب نے سعودی عرب میں پاکستان کے برآمدی حصے کو مزید بڑھانے کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ دونوں فریقین نے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط اور میچ میکنگ کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ معیار کی سرٹیفکیشن کی باہمی منظوری کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔سعودی فریق نے سبز چارے کو تجارت میں وسعت اور طویل المدتی سپلائی پارٹنرشپ کے قیام کے لیے ایک امید افزا شعبہ قرار دیا۔ دونوں ممالک نے بھکر، پنجاب میں پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے مجوزہ دوسرے مرحلے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ سعودی وفد نے پاکستان کو انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل میں شمولیت اختیار کرنے کی ترغیب بھی دی، جس کا پاکستانی جانب سے خیرمقدم کیا گیا۔ دونوں فریقین نے لائیو اسٹاک، ایگری فوڈ پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین کے شعبوں میں پاکستان کے نجی شعبے کی جانب سے پیش کردہ سرمایہ کاری تجاویز کا جائزہ لیا اور باہمی مفاد کے حامل ان مواقع کو آگے بڑھانے کے لیے رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے اپنی وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کا بھی اعادہ کیا۔ پاکستان نے 43ویں سعودی ایگریکلچر نمائش میں شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کیا، جو 19 سے 22 اکتوبر 2026ء تک ریاض میں منعقد ہوگی۔دونوں جانب نے دورے کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور طے پانے والی مفاہمتوں کو عملی شکل دینے کے لیے قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔