اسلام آباد، 27 اگست 2026 (غفران): پاکستان نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے کی حیثیت سے ایران کا دورہ کیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ان رپورٹس کو ’’گمراہ کن اور حقائق کے منافی‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا 24 اگست کو تہران کا دورہ پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں کیا گیا، جن کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حل میں مدد فراہم کرنا تھا۔ترجمان نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان کی جانب سے تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔ دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے برائے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل محسن رضائی، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔دفتر خارجہ کے مطابق ملاقاتوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تعطل کے خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے پر بات چیت ہوئی۔
فریقین نے علاقائی امن اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں بحران کے حل کے لیے برادر ممالک کے ساتھ مخلصانہ اور مربوط کوششوں میں مصروف ہے، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرنے میں پاکستان کے تعمیری کردار کا عکاس ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایرانی قیادت نے بھی کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مسلسل کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے ساتھ ساتھ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے کی سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور خطے میں دیرپا امن کو فروغ دینا ہے۔
