Wednesday, August 26

ٹرمپ انتظامیہ کا دنیا بھر میں ویزا اپائنٹمنٹس پر عارضی روک

Trump Administration Pauses Visa Appointments Worldwide Amid Immigration Crackdown

واشنگٹن، 26 اگست 2026 (غفران) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حکومت کی جانب سے جاری وسیع تر امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت دنیا بھر کے درخواست گزاروں کے لیے ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دیے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ایک عالمی تربیتی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ویزا سروسز کی اپائنٹمنٹس کو تربیتی پروگرام کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس میں ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر درخواستیں مسترد کرنا شامل ہے۔ ان وجوہات میں درخواست گزاروں کے سیاسی خیالات اور غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کے خلاف فلسطین کے حق میں احتجاج میں شرکت بھی شامل ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ملک کی داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم امیگریشن کریک ڈاؤن کو قانونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو ایک امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت 75 ممالک کے شہریوں کو تارکین وطن کے ویزے جاری کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ پالیسی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔

محکمہ خارجہ نے تربیتی پروگرام کی مزید تفصیلات یا اس کی مدت کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق تربیت کا مقصد قونصلر افسران کو ایسے درخواست گزاروں کی بہتر جانچ میں مدد دینا ہے جن کے بارے میں خیال ہو کہ وہ امریکی عوامی فلاحی سہولیات پر انحصار کر سکتے ہیں، جبکہ ویزا درخواستوں کا جامع اور یکساں طریقے سے جائزہ بھی یقینی بنایا جائے گا۔ ویزا اپائنٹمنٹس میں تعطل کی خبر سب سے پہلے فنانشل ٹائمز نے دی تھی۔ اخبار کے مطابق امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں انٹرویوز کے لیے مقررہ بعض تارک وطن ویزا درخواست گزاروں کو ای میلز موصول ہوئی ہیں، جن میں بتایا گیا کہ ان کی اپائنٹمنٹس دوبارہ مقرر کی جا رہی ہیں۔ درخواست گزاروں کو نئی تاریخ سے متعلق بعد میں اطلاع دینے کا کہا گیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں امتیازی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بعض اقدامات آزادی اظہار اور قانونی طریقہ کار کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ حقوق کی تنظیموں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ امیگریشن کریک ڈاؤن کے باعث بالخصوص نسلی اقلیتوں کے لیے امریکہ میں غیر محفوظ ماحول پیدا ہو سکتا ہے اور انہیں نسلی بنیادوں پر پروفائلنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے 2024 کی صدارتی مہم کے دوران غیر قانونی امیگریشن روکنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کے بعض راستوں کو بھی مشکل اور مہنگا بنا دیا ہے، جن میں مخصوص ورک ویزوں کے درخواست گزاروں پر نئی اور زیادہ فیس عائد کرنا بھی شامل ہے۔