Tuesday, August 25

امریکا نے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا

US Removes Syria from State Sponsors of Terrorism List

واشنگٹن، 25 اگست 2026 (کامران راجہ): امریکا نے شام کو ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے، جس کے بعد شام میں سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن شام کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ 45 روزہ کانگریسی جائزے کی مدت مکمل ہونے کے بعد مؤثر ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو کانگریس کو شام کا نام فہرست سے نکالنے کے ارادے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ فیصلہ صدر احمد الشرع کی قیادت میں شامی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی دہشت گردی سے مکمل طور پر دور رہنے کے لیے کیے گئے مثبت اقدامات اور مزید وعدوں کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا کہ اس فیصلے سے شام کو عالمی مالیاتی اور اقتصادی نظام سے دوبارہ منسلک ہونے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالے جانے کو سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور اقتصادی بحالی کی راہ میں موجود ’’آخری بڑی رکاوٹ‘‘ کا خاتمہ قرار دیا۔ شام 1979 سے امریکی فہرست میں شامل تھا۔ اس وقت واشنگٹن نے سابق صدر حافظ الاسد کی حکومت پر عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔ بعد ازاں ان کے بیٹے بشار الاسد کے دور حکومت میں بھی شام اس فہرست میں برقرار رہا۔ دسمبر 2024 میں احمد الشرع کی قیادت میں باغیوں نے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا، جس کے بعد احمد الشرع شام کے صدر بن گئے۔شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا اقدام دمشق کے حوالے سے امریکی پالیسی میں اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے جنگ زدہ ملک میں عالمی سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی تعمیر نو کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔