تہران، 25 اگست 2026 (نوشین): ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی معاشی پابندیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید اقتصادی دباؤ کی صورت میں فوجی ردعمل اور خلیج سے تیل کی برآمدات میں مزید کمی بھی کی جا سکتی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کی معاشی آمدن کے اہم ذرائع کو محدود کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے انتہائی سخت پابندیاں عائد کرنے سے گریز کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے باہر کیے جانے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق 60 افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ تاہم ایران کی تیل تجارت میں مبینہ معاونت کرنے والے چینی مالیاتی اداروں کو نئی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ایرانی وزیر اقتصادیات علی مدنی زادہ نے کہا کہ تہران نئی امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور امریکی دباؤ کا جواب دینے کے لیے اس کے پاس اپنے ذرائع اور طریقے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے مخالفین کو جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور روس نے امریکی اقدامات کو قبول نہیں کیا اور دیگر ممالک بھی واشنگٹن کی دباؤ کی مہم کی مزاحمت کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو تہران امریکی اہم مفادات اور توانائی کے اہم راستوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن طویل عرصے سے جاری تنازع کے دوران تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس تنازع کے باعث توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہوئی ہے اور مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔اگرچہ حالیہ ہفتوں میں فریقین کی جانب سے بڑے حملے نہیں کیے گئے، تاہم تنازع کے سفارتی حل کی فوری امید نظر نہیں آ رہی۔ امریکا خلیج میں ایرانی حملوں اور اپنے اتحادیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کے خاتمے کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو تقریباً چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ تنازع کے نتیجے میں ایران کی روایتی فوجی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے اور معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، تاہم ایران کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرون صلاحیت موجود ہے جس کے ذریعے خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار بحری جہازوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال بدستور واضح نہیں، جبکہ جاری تنازع میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان کے شہری شامل ہیں۔امریکی پابندیوں کے اعلان کے باوجود پیر کو تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر فی بیرل سے زائد کمی ہوئی، تاہم سرمایہ کار مشرق وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی میں مزید رکاوٹ کے خدشات کے باعث محتاط رہے۔
