Monday, August 24

ایران پر نئی امریکی پابندیوں کے خدشے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

Oil Prices Fall Ahead of Expected New US Sanctions on Iran

24 اگست 2026 (نیوز ڈیسک): ایران پر مزید سخت امریکی پابندیوں کے متوقع اعلان سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ڈالر سے زائد فی بیرل کم ہوگئیں، جبکہ سرمایہ کاروں نے گزشتہ ہفتے قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے بعد منافع کمانے کو ترجیح دی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 22 سینٹ، یعنی 1.29 فیصد کمی کے بعد 93.17 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 20 سینٹ، یعنی 1.38 فیصد کمی کے بعد 85.86 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ ہوا تھا اور دونوں بینچ مارکس میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات تھے۔ حالیہ کمی کے دوران سرمایہ کار ایران کے خلاف مزید امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کیے جانے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث اس آبی گزرگاہ سے تیل کی ترسیل محدود ہونے سے عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے کموڈیٹیز تجزیہ کار ویوک دھار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی پالیسی کس حد تک کامیاب ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدامات مؤثر ثابت ہوئے تو ایران کی جانب سے زیادہ سخت ردعمل عالمی توانائی کی منڈی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ایران نے مجوزہ امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب عراق کی درخواست پر ایران نے متعدد عراقی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے خطے میں تیل کی ترسیل سے متعلق صورتحال میں کچھ بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔