تہران، 23 اگست 2026 (نیوز ڈیسک): ایران نے نئی امریکی پابندیوں کی دھمکی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متوقع اقدامات واشنگٹن کی مایوسی کی علامت ہیں اور یہ تہران کو شکست دینے میں ناکام رہیں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے فوجی کارروائیوں کے بعد دوبارہ پابندیوں کے پرانے منصوبے سامنے لانا اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن مایوس ہو چکا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو پریس کانفرنس کرنے والے ہیں، جس میں وہ ایران کے خلاف ان پابندیوں کا اعلان کر سکتے ہیں جنہیں وہ ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ ایران پہلے ہی عالمی پابندیوں کے باعث شدید اقتصادی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ اس کے بنیادی ڈھانچے کو بار بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ شدید دباؤ کے باوجود تہران نے سخت موقف برقرار رکھا ہوا ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے۔ ایران نے غیر مجاز تیل بردار جہازوں کو اس انتہائی اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
عباس عراقچی نے اتوار کو ٹیلی گرام پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ فوجی کارروائیوں کے بعد امریکا کا دوبارہ پابندیوں کی طرف آنا اس کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس حقیقت سے کہ وہ فوجی کارروائیوں سے دوبارہ انہی پرانے منصوبوں کی طرف آ گئے ہیں، ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مایوس ہیں۔‘‘ عراقچی نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ایران سے احترام کے ساتھ بات کرے اور ’’انصاف اور وقار‘‘ پر مبنی حل تلاش کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کبھی امریکی دباؤ سے خوفزدہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ناکہ بندیوں اور دیگر فوجی اقدامات سمیت امریکا کے تمام سابقہ اقدامات ناکام رہے ہیں اور پابندیوں کا نیا منصوبہ بھی ناکام ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو ’’کسی بھی قسم کی سہولت‘‘ فراہم کرنے والے ممالک کو اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بیسنٹ نے چین پر بھی واشنگٹن کے ساتھ تعاون کے لیے زور دیا ہے، کیونکہ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق چین ایران سے برآمد ہونے والے تیل کا 80 فیصد سے زیادہ خریدتا ہے۔ چین نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔
