اسلام آباد، 20 اگست 2026 (غفران): پاکستان کے بیرونی مالیاتی نظام میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں پاکستان کے پہلے ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس پروگرام کے حوالے سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن ( اور بینک الفلاح لمیٹڈ کے درمیان پراجیکٹ معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔ معاہدے کی تقریب اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے شرکت کی۔ پراجیکٹ معاہدے پر آئی ایف سی کی ریجنل انڈسٹری ڈائریکٹر، فنانشل انسٹی ٹیوشنز گروپ، مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا مومینہ اعجاز الدین اور بینک الفلاح لمیٹڈ کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر عاطف اے باجوہ نے دستخط کیے۔وزیراعظم کی ہدایات کے تحت جاری ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس پروگرام مستقبل میں حاصل ہونے والے اہل غیر ملکی کرنسی کے ادائیگی کے بہاؤ کو استعمال کرتے ہوئے طویل مدتی غیر ملکی کرنسی کی فنانسنگ متحرک کرنے کا ایک جدید طریقہ فراہم کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے بیرونی مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانا اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی میں اضافہ کرنا ہے۔ابتدائی لین دین کے تحتڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس اسٹرکچر کے ذریعے 100 ملین امریکی ڈالر تک کی فنانسنگ متوقع ہے۔ مارکیٹ کے حالات اور ابتدائی لین دین کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پروگرام مستقبل میں مزید فنانسنگ اور بین الاقوامی ادارہ جاتی و نجی سرمایہ کاروں کی وسیع تر شرکت کے لیے پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، آئی ایف سی اور بینک الفلاح کے درمیان اس لین دین کی تیاری کے لیے قریبی تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے لیے اہم ریگولیٹری، پالیسی اور تکنیکی امور پر کام کیا گیا اور اس پیش رفت کو ایک اہم ابتدائی قدم قرار دیا جو مستقبل میں اسی نوعیت کے مارکیٹ پر مبنی مالیاتی ڈھانچوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے غیر ملکی کرنسی فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے اور سرمایہ کاری و پیداواری معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے جدید مالیاتی طریقہ کار وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے فنانسنگ کے اس ذریعے کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے اور ایسے منصوبوں کی پائپ لائن تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جنہیں غیر ملکی کرنسی میں فنانسنگ درکار ہو۔ آئی ایف سی کے نمائندگان نے حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ تعاون اور رابطہ کاری کو سراہا اور اس مرحلے تک لین دین پہنچانے میں تمام متعلقہ اداروں کی کوششوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ڈی پی آر اسٹرکچر طویل مدتی بین الاقوامی فنانسنگ کے لیے ایک اضافی ذریعہ بن سکتا ہے اور پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کی مزید ترقی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ بینک الفلاح نے حکومت پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور آئی ایف سی کے تعاون کو سراہتے ہوئے ڈی پی آر لین دین شروع کرنے والا پاکستان کا پہلا بینک ہونے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بینک نے اہل غیر ملکی کرنسی کی ضروریات اور پیداواری سرمایہ کاری کے لیے اس مالیاتی ڈھانچے سے بھرپور استفادے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ لین دین پاکستان کی ڈیبٹ کیپٹل مارکیٹ اور بیرونی مالیاتی فریم ورک کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ مستقبل میں دیگر پاکستانی بینکوں کی جانب سے ڈی پی آر لین دین کے لیے ایک ممکنہ مثال بھی قائم کرتا ہے، تاہم اس کا انحصار مارکیٹ کے حالات اور ابتدائی پروگرام کی کارکردگی پر ہوگا۔ تقریب میں سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، آئی ایف سی کے ڈویژن ڈائریکٹر برائے پاکستان، افغانستان، کرغز ریپبلک، تاجکستان اور ترکمانستان سائمن اینڈریوز سمیت وزارت خزانہ، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن، بینک الفلاح لمیٹڈ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلیٰ حکام اور نمائندگان نے شرکت کی۔
