Wednesday, August 19

علاقائی کشیدگی کے باعث متحدہ عرب امارات کا ایران سے تجارت اور مالی لین دین معطل کرنے کا اعلان

علاقائی کشیدگی کے باعث متحدہ عرب امارات کا ایران سے تجارت اور مالی لین دین معطل کرنے کا اعلان

ابوظہبی، 19 اگست 2026 (غفران) — متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، تبادلے اور مالی لین دین تاحکمِ ثانی معطل کر دیا ہے۔ اماراتی وزارت خارجہ نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ یہ اقدام علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے، جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا جب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ اس نے ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا ہے۔ 4 مئی کو فجیرہ بندرگاہ پر ہونے والے حملے کے بعد یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ بعد ازاں اماراتی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے جائزے کے مطابق میزائلوں کا ہدف سمندری آمدورفت تھی۔ وزارت کے مطابق دونوں میزائل سمندر میں گر گئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو متحدہ عرب امارات کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے الزامات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا۔ بقائی نے تمام علاقائی فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف ’’بے بنیاد الزامات‘‘ عائد کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کا جائزہ لیتے وقت امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے علاقائی امن و سلامتی کے خلاف مسلسل ’’شرپسندانہ اقدامات‘‘ کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

میزائل واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے لیے مقررہ 60 روزہ مدت پیر کو کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی، جس کے بعد مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ فروری سے جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اماراتی وزارت دفاع نے کہا کہ وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ریاست کی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔اس سے قبل اماراتی وزارت داخلہ نے شہریوں کو موبائل فون پر الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صورتحال محفوظ ہے اور انہیں معمول کی سرگرمیاں بحال کر دینی چاہئیں۔ اس سے پہلے میزائل خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں ایران پر اپنی سرکاری ملکیتی کمپنی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ ایران نے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی  کے جہازوں پر مبینہ حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے اس سے قبل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایسے جہازوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی تھی جو تہران کے مخالفین سے منسلک ہوں یا ایرانی ہدایات پر عمل نہ کریں۔