Wednesday, August 19

فلپائن میں اسکول فائرنگ، طالب علم نے واقعہ لائیو اسٹریم کرنے کے بعد خودکشی کرلی

فلپائن میں اسکول فائرنگ، طالب علم نے واقعہ لائیو اسٹریم کرنے کے بعد خودکشی کرلی

منیلا، 18 اگست 2026 (غفران): فلپائن میں منگل کے روز ایک طالب علم نے اسکول کے اندر اپنے ایک ساتھی طالب علم کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے واقعے کو سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کیا اور بعد ازاں خود بھی اپنی جان لے لی، حکام نے واقعے کی تصدیق کردی۔ یہ اسکول فائرنگ کا واقعہ ملک میں دو ماہ کے دوران پیش آنے والا دوسرا واقعہ ہے، جو مغربی منڈاناؤ میں واقع کیتھولک نجی تعلیمی ادارے اٹینیو ڈی زامبوانگا یونیورسٹی میں پیش آیا۔ علاقائی پولیس کی ترجمان شیلا چانگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور اس کلاس روم میں گیا جہاں متاثرہ طالب علم موجود تھا اور اسے گولی مار دی۔ اس کے بعد وہ پانچویں منزل پر گیا اور خود کو گولی مار لی۔ فلپائن کے وزیر داخلہ وکٹر ریمولا نے ایک الگ بیان میں تصدیق کی کہ نویں جماعت کے مشتبہ طالب علم نے فائرنگ کے واقعے کو سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کیا تھا۔ مبینہ حملہ آور کا فیس بک اکاؤنٹ بعد میں غیر فعال کردیا گیا۔مقامی میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک بندوق کی نالی کو راہداری میں حرکت کرتے دیکھا جاسکتا ہے، جس کا انداز کسی فرسٹ پرسن شوٹر ویڈیو گیم سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ بعد ازاں بندوق کو ایک کلاس روم کی جانب کیا جاتا ہے اور فائرنگ کی جاتی ہے۔ویڈیو میں اسکول یونیفارم میں ملبوس بچوں کو چیختے ہوئے اور باہر نکلنے کی جانب بھاگتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔حکام کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ فائرنگ کے نتیجے میں کتنے افراد زخمی ہوئے۔

وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ قومی پولیس فائرنگ کے محرکات کا تعین کرنے، استعمال ہونے والے ہتھیار کی ملکیت اور اس کے ذریعے کا سراغ لگانے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اسلحہ اسکول کی حدود میں کیسے لایا گیا۔ پولیس نے تاحال حملہ آور اور متاثرہ طالب علم کی عمریں جاری نہیں کیں۔ اٹینیو ڈی زامبوانگا کے صدر فادر گِلرے اینڈال نے دو ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسکول انتظامیہ فائرنگ کے واقعے پر ’’شدید غمزدہ‘‘ ہے اور تحقیقات میں پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ انہوں نے اسکول کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ پولیس کے ساتھ مل کر دونوں افراد کی شناخت کے عمل میں ہے تاکہ ان کے اہل خانہ سے رابطہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے نے طلبہ، عملے اور پورے تعلیمی ادارے میں ’’شدید تشویش اور پریشانی‘‘ پیدا کردی ہے۔اسکول انتظامیہ کے مطابق واقعے سے قبل سیکیورٹی ٹیم ایک مشقی سرگرمی کی تیاری بھی کر رہی تھی، کیونکہ طلبہ اور عملے کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔فلپائن میں اسکول فائرنگ کے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں، تاہم جون میں وسطی فلپائن کے ایک اسکول پر حملے میں تین نوعمر طلبہ ہلاک اور 20 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد ملک بھر کے متعدد اسکولوں کی طرح اٹینیو ڈی زامبوانگا نے بھی گزشتہ ماہ مسلح حملہ آور سے نمٹنے کے لیے مشقی سرگرمی کا انعقاد کیا تھا۔جنوب مشرقی ایشیائی ملک فلپائن میں قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے لیے سخت ضوابط موجود ہیں، تاہم اسلحے کی ایک بڑی غیر قانونی منڈی بھی موجود ہے۔