Wednesday, August 19

عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حکم میں ترمیم کے لیے حکومت کا سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

Govt to Approach Supreme Court for Modification of Imran Khan Hospital Transfer Order

اسلام آباد، 18 اگست 2026 (کامران راجہ): وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے منگل کو کہا ہے کہ حکومت نے قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم میں ترمیم کے لیے نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایک ویڈیو بیان میں وزیر قانون نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی بانی کو نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کا جائزہ لیا ہے اور فیصلے کے بعض نکات جیل حکام اور اسلام آباد انتظامیہ سے متعلق ہیں۔وزیر قانون کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے چند گھنٹے قبل اڈیالہ جیل حکام کو عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔تارڑ نے کہا کہ عدالتی حکم کے متعلقہ نکات پر جیل حکام اور اسلام آباد انتظامیہ سے بات چیت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکام کا مؤقف ہے کہ یہ حکم جیل قوانین کے تحت سزا یافتہ قیدی کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے قانونی طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

وزیر قانون نے کہا کہ حکومت عدالتی حکم میں ترمیم کی درخواست کرے گی تاکہ عمران خان کا طبی معائنہ سرکاری اسپتال میں کرایا جا سکے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ایک قیدی کو نجی اسپتال منتقل کیا جاتا ہے تو ملک کی جیلوں میں موجود ہزاروں دیگر قیدیوں کے حوالے سے بھی سوال پیدا ہوگا جو صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ تارڑ کے مطابق قانون کے تحت ایک میڈیکل بورڈ فیصلہ کرتا ہے کہ کسی قیدی کا علاج جیل میں کیا جائے یا اسے اسپتال منتقل کیا جائے۔ اگر بورڈ جیل سے باہر علاج کی سفارش کرے تو قیدی کو سرکاری اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ وزیر قانون نے کہا، ’’جب تک یہ ثبوت سامنے نہ آئے کہ سرکاری اسپتال مطلوبہ علاج فراہم کرنے سے قاصر ہیں، اس نوعیت کے انتظامات نہیں کیے جاتے۔‘‘تارڑ نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور سوال اٹھایا کہ کیا طبی علاج کے محتاج تمام قیدیوں کے لیے بھی یہی انتظام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اب سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی تاکہ اس معاملے میں موجود ابہام دور کیا جاسکے اور قابل اطلاق جیل قوانین کے مطابق عدالتی حکم میں ترمیم کی درخواست کی جاسکے۔73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے قید ہیں۔ انہیں جن مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں، وہ اور ان کی جماعت انہیں سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات قرار دیتے ہیں۔ اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے برطرفی کے بعد سے عمران خان کو متعدد قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔