
واشنگٹن، 15 اگست 2026 (نوشین): امریکا درجنوں ممالک سے کہنے کی تیاری کر رہا ہے کہ انہیں چین کے ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی دوڑ میں کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا۔ امریکی حکام کے مطابق جو ممالک بیجنگ کے متبادل اے آئی فریم ورک کا حصہ بنیں گے، انہیں امریکی قیادت میں بننے والے اے آئی اتحاد سے خارج کیا جا سکتا ہے۔رائٹرز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تیار کردہ ایک داخلی مسودے میں یہ پالیسی سامنے آئی ہے، جس کے تحت واشنگٹن اے آئی ٹیکنالوجی میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحادی اور شراکت دار ممالک کو اپنے ساتھ تعاون کے حوالے سے واضح انتخاب کرنے پر زور دے گا۔امریکا نے گزشتہ سال پیکس سیلیکا اقدام شروع کیا تھا، جس کا مقصد اے آئی ماڈلز، سیمی کنڈکٹرز اور اہم معدنیات کی سپلائی چینز کو محفوظ بنانا ہے۔ یہ اقدام واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی مسابقت کے تناظر میں کیا گیا۔اس اقدام میں تقریباً دو درجن ممالک شامل ہو چکے ہیں، جن میں قازقستان بھی شامل ہے، جو اہم معدنیات کا ایک ممکنہ بڑا ذریعہ ہے۔ تاہم قازقستان چین کے زیرِ قیادت اے آئی اتحاد میں بھی شامل ہو چکا ہے۔ جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جیسے قریبی امریکی اتحادی بھی پیکس سیلیکا کا حصہ ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا تیار کردہ خط ’’اے آئی مواقع سے متعلق بیان‘‘ پر دستخط کرنے والے 35 ممالک کو بھیجا جائے گا۔ یہ بیان جون میں جاری کیا گیا تھا اور اس میں پیکس سیلیکا کے رکن ممالک کے علاوہ وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے اے آئی کے شعبے میں واشنگٹن کے ساتھ تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کی حکمت عملی کا مقصد چین کو جدید ترین مصنوعی ذہانت کی تیاری کی دوڑ میں درکار وسائل تک رسائی محدود کرنا ہے۔ جدید اے آئی ٹیکنالوجی مستقبل میں فوجی طاقت، اقتصادی اثر و رسوخ اور عالمی مسابقت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔امریکا اور چین کے درمیان اے آئی کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات اور سپلائی چینز کو عالمی جغرافیائی سیاست کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔