Thursday, August 13

پیوٹن کا جاپان کے زیرِ دعویٰ جزیرے کا دورہ، ٹوکیو کا شدید احتجاج

ماسکو، 13 اگست 2026 (غفران): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جزائر کوریل کے سلسلے میں واقع جاپان کے زیرِ دعویٰ جزیرے ایتوروف کا دورہ کیا، جس پر جاپان نے شدید احتجاج کیا ہے۔روسی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے جزیرے پر واقع یاسنی فش پروسیسنگ پلانٹ کا دورہ کیا۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق یہ صدر پیوٹن کا کوریل جزائر کے اس حصے کا پہلا ذاتی دورہ ہے۔ انہوں نے یہ دورہ روس کے مشرق بعید میں بحری مشقوں کی نگرانی کے ایک روز بعد کیا۔روس اور جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے بعد اب تک باضابطہ امن معاہدے پر دستخط نہیں کیے، جس کی بڑی وجہ کوریل جزائر پر جاری علاقائی تنازع ہے۔ جاپان ان جزائر کو ’’شمالی علاقہ جات‘‘ قرار دیتا ہے۔جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹیگی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیوٹن کے دورے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایتوروف سمیت شمالی علاقہ جات تاریخی اور بین الاقوامی قانون کے تحت جاپان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔

روسی ٹی وی چینل ویستی کی جانب سے جاری تصاویر میں صدر پیوٹن کو مچھلیوں سے متعلق حکام سے گفتگو کرتے اور مقامی مچھلی کے انڈے چکھتے ہوئے دکھایا گیا۔ انہوں نے جزیرے کے مقامی افراد سے گفتگو کرتے ہوئے وہاں کے خوشگوار موسم کو بھی سراہا۔پیوٹن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس کے اتحادی شمالی کوریا نے بدھ کے روز جزیرہ نما کوریا کے مشرقی پانیوں کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیا۔ جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں بھی متوقع ہیں، جن کی شمالی کوریا طویل عرصے سے مخالفت کرتا آیا ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے جزیرے پر واقع یاسنی فش پروسیسنگ پلانٹ کا دورہ کیا۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق یہ صدر پیوٹن کا کوریل جزائر کے اس حصے کا پہلا ذاتی دورہ ہے۔ انہوں نے یہ دورہ روس کے مشرق بعید میں بحری مشقوں کی نگرانی کے ایک روز بعد کیا۔روس اور جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے بعد اب تک باضابطہ امن معاہدے پر دستخط نہیں کیے، جس کی بڑی وجہ کوریل جزائر پر جاری علاقائی تنازع ہے۔ جاپان ان جزائر کو ’’شمالی علاقہ جات‘‘ قرار دیتا ہے۔جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹیگی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیوٹن کے دورے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایتوروف سمیت شمالی علاقہ جات تاریخی اور بین الاقوامی قانون کے تحت جاپان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔روسی ٹی وی چینل ویستی کی جانب سے جاری تصاویر میں صدر پیوٹن کو مچھلیوں سے متعلق حکام سے گفتگو کرتے اور مقامی مچھلی کے انڈے چکھتے ہوئے دکھایا گیا۔ انہوں نے جزیرے کے مقامی افراد سے گفتگو کرتے ہوئے وہاں کے خوشگوار موسم کو بھی سراہا۔پیوٹن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس کے اتحادی شمالی کوریا نے بدھ کے روز جزیرہ نما کوریا کے مشرقی پانیوں کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیا۔ جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں بھی متوقع ہیں، جن کی شمالی کوریا طویل عرصے سے مخالفت کرتا آیا ہے۔