Wednesday, August 12

کانگو میں ایبولا سے ہلاکتیں 2 ہزار سے تجاوز کر گئیں، وبا تیزی سے پھیلنے لگی

بونیا، کانگو، 11 اگست 2026 (کامران راجہ): کانگو میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مسلح تنازع، خراب سڑکوں اور طبی عملے کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث متاثرہ علاقوں تک امداد اور طبی سہولیات کی رسائی شدید مشکلات کا شکار ہے۔حکومت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق وبا کے دوران اب تک 4,381 مصدقہ کیسز اور 2,011 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ موجودہ وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا، تاہم صحت حکام کے مطابق جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا کہ وائرس کا پھیلاؤ اس سے کئی ماہ قبل فروری میں شروع ہو چکا تھا۔ وبا کے دوران پہلے ایک ہزار افراد تقریباً نو ہفتوں میں جاں بحق ہوئے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار تک پہنچنے میں صرف تقریباً تین ہفتے لگے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔صحت حکام نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور طبی کارروائیاں مزید تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ اٹوری صوبے کے ایک کلینک میں مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹر ژاں میری اکاندابو نے خبردار کیا ہے کہ بیماری بدستور مقامی آبادی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔ موجودہ وبا تاریخ کی دوسری بڑی ایبولا وبا بن چکی ہے، جبکہ اس سے بڑی وبا 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلی تھی، جس میں 28 ہزار سے زائد کیسز اور 11 ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔

موجودہ وبا ایبولا کے نایاب بنڈی بگیو وائرس کے باعث پھیل رہی ہے، جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں۔ اٹوری صوبے میں ممکنہ ویکسین اور علاج کے کلینیکل ٹرائلز شروع کر دیے گئے ہیں۔ امدادی کارکنوں کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار طبی ردعمل سے زیادہ ہے، جبکہ متعدد طبی کارکنوں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کام روک دیا ہے۔وبا کے دوران کیسز میں اموات کی شرح 45.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 2014 سے 2016 کی مغربی افریقہ کی وبا میں ریکارڈ کی گئی 39.6 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق بلند شرح اموات کی بڑی وجوہات میں مریضوں تک بروقت طبی سہولیات کی عدم دستیابی، علامات ظاہر ہونے کے باوجود دیر سے رپورٹنگ اور ابتدائی مرحلے میں کیسز کی شناخت میں مشکلات شامل ہیں۔ بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے حکام نے عوامی اجتماعات پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اٹوری کے مرکزی ہوائی اڈے کو بھی بند کر دیا ہے۔ تاہم تجارت، کان کنی اور مسلح تنازع کے باعث نقل مکانی کے نتیجے میں لوگوں کی نقل و حرکت بدستور جاری ہے، خصوصاً جنوبی سوڈان، یوگنڈا اور روانڈا کی سرحدوں کے قریب علاقوں میں۔

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ نئے کیسز کی بڑی تعداد اب بھی زیر نگرانی رابطوں کے دائرے سے باہر سامنے آ رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کی منتقلی پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق وبا کے ابتدائی مرحلے میں بعض کیسز کو ملیریا اور ٹائیفائیڈ سمجھ لیا گیا، جبکہ ابتدائی ٹیسٹنگ ایبولا کی زیادہ عام قسم کے لیے کی گئی۔افریقہ کے لیے عالمی ادارۂ صحت کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد یعقوب جنابی نے کہا کہ طبی عملہ وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور حکام وائرس کا تعاقب کر رہے ہیں، جبکہ وائرس ان سے آگے بڑھ رہا ہے۔ایبولا وائرس کی پہلی شناخت 1976 میں دریائے ایبولا کے قریب ہوئی تھی، جو موجودہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں واقع ہے۔ موجودہ وبا کانگو میں ایبولا کی 17ویں وبا ہے اور اسے ملک کی اب تک کی سب سے بڑی ایبولا وبا قرار دیا جا رہا ہے۔