Sunday, August 9

چوہدری یاسین کا آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کا الزام، پیپلز پارٹی رہنما کا مسلم لیگ ن حکومت کے جلد خاتمے کا دعویٰ

اسلام آباد، 09 اگست 2026 (کامران راجا): پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری یاسین نے حالیہ آزاد کشمیر انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متنازع انتخابی عمل سے خطے کے بارے میں عالمی سطح پر منفی پیغام گیا ہے، جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔اسلام آباد پریس کلب میں دیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری یاسین نے کہا کہ پارٹی کو انتخابات سے قبل ہی انتخابی عمل پر شدید تحفظات تھے اور مبینہ بڑے پیمانے کی بے ضابطگیوں کے باعث انتخابات کو متنازع بنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات ہوتے تو عالمی برادری اور کشمیری عوام کو مثبت پیغام جاتا، تاہم انتخابی عمل کے دوران مختلف اقدامات کے باعث منفی تاثر پیدا ہوا۔چوہدری یاسین نے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں پنجاب پولیس کے اہلکار تعینات کیے گئے اور ان پر جانبداری کا مظاہرہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایل اے-5، ایل اے-9، ایل اے-11 اور ایل اے-12 سمیت متعدد حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔پیپلز پارٹی رہنما نے کامیاب امیدواروں میں سے ایک کی اہلیت اور پس منظر سے متعلق بھی الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذکورہ امیدوار کو برطانیہ میں ریپ کیس کا سامنا رہا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے اور بیلٹ پیپرز پر رات بھر مہریں لگائی جاتی رہیں۔

چوہدری یاسین نے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کے انتخابات سے تقریباً ایک سال قبل دیے گئے مبینہ بیان کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق رانا ثناء اللہ نے پیش گوئی کی تھی کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوگی اور پنجاب سے مہاجرین کی 10 نشستیں پارٹی کے لیے یقینی قرار دی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات سے متعلق تحفظات کے ازالے کے لیے ایک انتخابی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، جس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے نمائندے شامل تھے۔ ان کے دعوے کے مطابق مسلم لیگ ن نے ابتدا میں بعض اصولوں سے اتفاق کیا، تاہم بعد میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی۔چوہدری یاسین نے آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں ہونے والے انتخابات کی اہمیت صرف مقامی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات دنیا کے سامنے ایک اہم پیغام پہنچاتے ہیں، تاہم ان کے بقول حالیہ انتخابات سے وہ پیغام نہیں گیا جو کشمیر سے جانا چاہیے تھا۔پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں قائم ہونے والی مسلم لیگ ن کی نئی حکومت زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گی۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر پہلے ہی مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور حکومتی وزراء کے بیانات صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں۔چوہدری یاسین نے انتخابی عمل سے متعلق اپنے تمام الزامات کی بنیاد پر شفاف تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔