Sunday, August 9

جرمن فوجی اڈے کے اوپر دو ڈرونز کی پرواز، مشتبہ ڈرون حملے کے دو روز بعد واقعہ

برلن، 8 اگست 2026 (نوشین):جرمنی کے مغربی علاقے میں واقع ایک فوجی اڈے کے اوپر جمعرات کی شب دو ڈرونز دیکھے گئے، جس کے دو روز قبل ملک کے مشرق میں واقع لیپزگ/ہالے ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب دھماکا خیز مواد سے لیس ایک ڈرون برآمد ہوا تھا۔جرمن مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق جمعرات کی رات تقریباً 10 بجے ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر میخرنیخ میں واقع فوجی اڈے کے اوپر ڈرونز دیکھے گئے۔ یہ فوجی اڈہ بیلجیئم کی سرحد سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ڈرونز کی موجودگی کی تصدیق کے بعد ملٹری پولیس کو تعینات کیا گیا، جبکہ بعد ازاں معاملہ قریبی شہر یوسکرشن کی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

جرمن میڈیا کے مطابق میخرنیخ میں واقع بنڈس ویئر کے اس مقام پر فوجی سازوسامان اور اس کے پرزہ جات کے لیے ایک انتہائی محفوظ زیرِ زمین اسٹوریج سہولت موجود ہے۔ یہ مقام امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی دیکھ بھال سے متعلق اہلکاروں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔دوسری جانب منگل کی شب لیپزگ/ہالے ایئرپورٹ پر ملنے والا ڈرون ایک سول فریٹ ایئرپورٹ اور نیٹو کے لاجسٹکس مرکز کے طور پر استعمال ہونے والی تنصیب کے قریب پایا گیا تھا۔ جرمن میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون یوکرین کے متعدد انتونوف اے این-124 کارگو طیاروں کے قریب سے برآمد ہوا۔ان واقعات کے بعد نیٹو کی فضائی حدود میں ڈرونز کی ممکنہ دراندازی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں، جبکہ اس بات پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے کہ جرمنی سمیت فوجی اتحاد کے اہم رکن ممالک نئے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔جرمن حکام نے تاحال ان واقعات کا الزام کسی غیر ملکی ملک پر عائد نہیں کیا۔ تاہم بعض جرمن قانون سازوں نے روس پر شبہ ظاہر کیا ہے، جو 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے جنگ میں مصروف ہے۔برلن میں روسی سفارتخانے نے جمعہ کو لیپزگ کے واقعے سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے ’’من گھڑت اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ روس کے خلاف بغیر ثبوت الزامات عائد کرنے کی ایک اور مثال ہے۔