Tuesday, August 4

چہلم حضرت امام حسینؓ: ملک بھر میں سخت سیکیورٹی، جلوس اور مجالس پُرامن انداز میں جاری

 اسلام آباد، 3 اگست 2026 (راجہ کامران): حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کے چہلم کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھا گیا، جبکہ جلوسوں اور مجالس کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے بڑے شہروں میں سخت حفاظتی انتظامات اور خصوصی ٹریفک پلان نافذ کیے گئے۔پنجاب میں 730 سے زائد مجالس اور 400 سے زیادہ جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے انتظامات مکمل کیے گئے۔ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عبدالکریم کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 42 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ لاہور میں 44 مجالس اور 17 جلوسوں کی حفاظت کے لیے 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ سیکیورٹی کے لیے 390 واک تھرو گیٹس اور 6 ہزار 427 میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کیے گئے، جبکہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اپنے نگرانی کے جدید کیمروں کے ذریعے تمام سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایلیٹ فورس، ٹریفک پولیس اور رضاکار بھی سیکیورٹی اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے تعینات ہیں۔ آئی جی پنجاب نے تمام سی سی پی اوز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کریں۔ جلوسوں کے راستوں پر عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ خواتین عزاداروں کی تلاشی کے لیے لیڈی پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں۔ لاہور میں حضرت داتا گنج بخشؒ کے سالانہ عرس کے موقع پر بھی خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں دونوں مذہبی تقریبات کی نگرانی کے لیے کنٹرول رومز چوبیس گھنٹے فعال ہیں۔ لاہور کا مرکزی چہلم جلوس دہلی گیٹ کے اندر واقع حویلی الف شاہ سے تین سطحی سیکیورٹی حصار میں برآمد ہوا۔ جلوس اپنے روایتی راستے پر گامزن ہے، جہاں عزادار مسجد وزیر خان میں نمازِ ظہرین ادا کرنے کے بعد مغرب کے وقت کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوں گے۔ پولیس کے مطابق شرکا کو متعدد سیکیورٹی مراحل سے گزرنے کے بعد ہی جلوس میں شامل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ اطراف کی گلیوں کو عارضی رکاوٹوں اور خاردار تاروں سے بند کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب کراچی میں مرکزی چہلم جلوس نشتر پارک سے سخت سیکیورٹی میں برآمد ہوا اور اپنے روایتی راستے پر رواں دواں ہے۔ انتظامیہ نے ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے اور جلوس کے راستے تک رسائی محدود رکھنے کے لیے اہم مقامات پر کنٹینرز رکھ دیے ہیں۔ کراچی ٹریفک پولیس نے متبادل ٹریفک پلان جاری کرتے ہوئے شاہراہِ قائدین سے ٹریفک کو کشمیر روڈ اور پیپلز چورنگی کی جانب موڑ دیا ہے۔ حسن اسکوائر سے آنے والی گاڑیوں کو شاہراہِ قائدین، سوسائٹی سگنل اور لسبیلہ چوک کے راستے تین ہٹی جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ناظم آباد سے آنے والی ٹریفک کو لسبیلہ، گارڈن اور نشتر روڈ کی جانب منتقل کیا گیا ہے، جبکہ شاہراہ فیصل سے آنے والی گاڑیوں کو سوسائٹی سگنل کے ذریعے کشمیر روڈ کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔ صدر سے ٹاور جانے والی ٹریفک کو پریڈی اسٹریٹ اور آئی آئی چندریگر روڈ کے ذریعے گزارا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں، متبادل ٹریفک راستوں پر عمل کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں، کیونکہ چہلم کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔