
واشنگٹن، 20 ستمبر 2026 (غفران): امریکی محکمہ خارجہ نے یوکرین کو فضائی دفاع کی ترقی، اپ گریڈ اور متعلقہ آلات و خدمات کے لیے ممکنہ طور پر 2.7 ارب ڈالر کی فوجی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس کے بارے میں کانگریس کو بھی مطلع کیا گیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کی مالی معاونت یورپی ممالک کی شراکت اور سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران مختص کیے گئے امریکی فارن ملٹری فنانسنگ (ایف ایم ایف) کے ذریعے کی جائے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ایف ایم ایف کو یوکرین ریکنسٹرکشن انویسٹمنٹ فنڈ میں ایک کے بدلے ایک کی واپسی کے طریقہ کار کے تحت امریکی سرمائے کی شراکت شمار کیا جائے گا۔ مجوزہ پیکیج میں ایس-300 طرز کے میزائل، جی اے ایم-67 میزائل، اضافی رینج والے فضائی دفاعی لیزر گائیڈڈ راکٹ میزائل سسٹمز، لانچر اور موبائل لانچنگ سسٹم میں تبدیلی کے کٹس، ڈرون مخالف نظام کے ریڈارز اور دیگر متعلقہ دفاعی سازوسامان شامل ہیں۔ مجوزہ فروخت اب بھی امریکی کانگریس کے جائزے سے مشروط ہے۔ یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے، حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ روس نے 2022 کے اوائل میں یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملہ شروع کیا تھا۔ دریں اثنا، صدر ٹرمپ نے روس پر مزید اقتصادی دباؤ بڑھانے کی راہ ہموار کرتے ہوئے روس سے متعلق وسیع پابندیوں کے بل پر دستخط کرکے اسے قانون کی شکل دے دی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ یورپی ممالک سے یوکرین کو پہلے فراہم کی جانے والی امریکی فوجی امداد اور گولہ بارود کی رقم واپس ادا کرنے کا مطالبہ کریں گے۔