
کیف، 8 اکتوبر 2026 (کامران راجہ):یوکرین کو جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہوتے ہی جنگ کے لیے تیار فوجیوں کی بڑھتی ہوئی کمی کا سامنا ہے، جبکہ فوجی کمانڈروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگلے محاذ کی بعض یونٹیں اپنی نصف نفری کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی اور جنگی حکمت عملی میں پیش رفت کے باوجود افرادی قوت کی کمی یوکرین کی طویل مدتی فوجی کارروائیوں کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہے۔ کمانڈروں کے مطابق فوجیوں کو مناسب وقفوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کی جگہ لینے کے لیے کافی اضافی نفری موجود نہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ اور فوجی کارکردگی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ طویل عرصے سے جاری بھرتی کے مسائل، جن میں فوج میں شمولیت سے گریز اور فوجیوں کا اپنی یونٹوں سے فرار شامل ہے، نے بھی افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ وزارت دفاع بھرتی، فوجی تربیت، معاہدوں اور فوجی یونٹوں کی تنظیم نو کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ دستیاب اہلکاروں کی تعداد ہی ناکافی ہے۔ فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق کمزور یونٹوں کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جس سے بھاری نقصانات، مسلسل بھرتی اور نئے فوجیوں کی تعیناتی کا ایک چکر جاری رہتا ہے۔ بعض یوکرینی فوجیوں نے مبینہ طور پر محاذ پر ایک سال تک محدود رخصت اور تبدیلی کے مواقع کے بغیر خدمات انجام دی ہیں۔ ڈا ونچی وولوز بٹالین کے ایک نائب کمانڈر نے بتایا کہ ان کی یونٹ تقریباً نصف نفری کے ساتھ کام کر رہی ہے جبکہ اس کی ذمہ داری کا علاقہ دگنا ہو چکا ہے، جس کے باعث اتنی ہی تعداد میں فوجیوں کو تقریباً دوگنے علاقے کا دفاع کرنا پڑ رہا ہے۔ جنگ کے باعث آبادی میں کمی، نقل مکانی اور بیرون ملک منتقلی کے نتیجے میں یوکرین میں فوجی بھرتی کے اہل مردوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یوکرین کی مسلح افواج میں تقریباً 10 لاکھ افراد خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم ان میں سے صرف ایک حصہ اگلے محاذ پر تعینات ہے۔ یوکرین کو فوجیوں کے اپنی یونٹوں سے فرار کے مسئلے کا بھی سامنا ہے اور حکام پہلے اندازہ ظاہر کر چکے ہیں کہ لاکھوں فوجی بغیر اجازت اپنی یونٹیں چھوڑ چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلہ صرف فوجیوں کی تعداد کا نہیں بلکہ انہیں منظم، تربیت اور تعینات کرنے کے طریقہ کار کا بھی ہے۔ تھکن، ناقص تنظیم، ناکافی تربیت اور فوجی سروس کی مدت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال فوجیوں کے فرار اور فوجی کارکردگی میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔ افرادی قوت کی کمی کے باوجود یوکرینی افواج اب بھی محدود مقامی کارروائیاں کرنے اور لیمان اور دنیپروپیٹروفسک کے قریب بعض علاقوں میں پیش قدمی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائیاں اتنی محدود ہیں کہ مجموعی جنگی صورتحال میں بنیادی تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ صدر وولودیمیر زیلنسکی کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق روس نے 2026 کے آغاز سے اب تک تقریباً 990 مربع کلومیٹر یوکرینی علاقہ قبضے میں لیا ہے جبکہ یوکرینی افواج نے تقریباً 820 مربع کلومیٹر علاقہ واپس حاصل کیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وسیع تر محاذ کی صورتحال میں بڑی تبدیلی کا امکان اس وقت تک کم ہے جب تک یوکرین اپنی افرادی قوت کی کمی دور کرنے اور اپنی فوجی تنظیم اور تعیناتی کے نظام کو بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔