
پشاور، 19 اکتوبر 2026 (غفران): گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کے ساتھ قریبی رابطے اور تعاون کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ صوبے بھر میں صفائی ستھرائی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت میں تجاوزات کے خاتمے اور صفائی کے لیے کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کارروائیوں کے دوران کسی کی ذاتی سفارش یا اثر و رسوخ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ فیصل کریم کنڈی نے گندم کے معاملے کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ صوبے کے لیے مختص گندم کہاں غائب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حقائق سامنے لائے جائیں گے اور تحقیقات کی رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔ گورنر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور صرف عوامی مفاد کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ ماضی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہی ترقیاتی کام کے لیے چار محکموں نے بل تیار کیے تھے، تاہم اب سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک قوانین کا جائزہ لینے اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ نئے ٹریفک ضوابط تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے اور ٹریفک چالان سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کیمروں کا استعمال بھی کیا جائے گا۔ بجلی کی قلت کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ میں اضافے کے معاملے پر واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے حکام سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ بجلی چوری مزید برداشت نہیں کی جائے گی اور صارفین کو اپنے بل ادا کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت گزر چکا ہے جب صوبے کی جانب سے بجلی اور گیس کی فراہمی میں امتیازی سلوک کے الزامات بار بار وفاقی حکومت پر عائد کیے جاتے تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسائل جلد حل ہو جائیں گے۔ گورنر نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور قومی یکجہتی اور عوامی فلاح کے وسیع تر مفاد میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر تمام صوبوں کے ساتھ رابطہ اور تعاون برقرار رکھا جائے گا۔