
اسٹاک ہوم، 8 اکتوبر 2026 (نوشین): کینیڈین شاعرہ اور مصنفہ این کارسن نے 2026 کا نوبیل انعام برائے ادب جیت لیا ہے۔ سویڈش اکیڈمی کے مطابق انہیں یہ اعزاز کلاسیکی ادبی روایت کے ساتھ تخلیقی انداز میں مکالمہ کرتے ہوئے عصری ادب کے لیے نئی اصناف اور اسالیب تخلیق کرنے پر دیا گیا ہے۔ سویڈش اکیڈمی کی جانب سے دیا جانے والا یہ باوقار انعام 12 ملین سویڈش کرونا، یعنی تقریباً 12 لاکھ ڈالر مالیت کا ہے۔ سویڈش اکیڈمی کی مستقل سیکریٹری انگرڈ کارل برگ نے بتایا کہ این کارسن اعلان پر انتہائی حیران ہوئیں اور مختصر گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت آئس لینڈ میں ہیں جہاں وہ ہوا کی آواز سن رہی ہیں۔ ٹورنٹو میں پیدا ہونے والی 76 سالہ این کارسن شاعری، نثر، مکالمے اور تراجم کو منفرد ادبی انداز میں یکجا کرنے کے لیے معروف ہیں۔ ان کی تحریروں پر کلاسیکی یونانی ادب کے گہرے اثرات ہیں اور ان کے کام میں تراجم، اوپیرا کے لیے تحریری کام، ادبی تنقید اور شعری ناول شامل ہیں، جن میں 1998 کی معروف تصنیف آٹو بائیوگرافی آف ریڈ بھی شامل ہے۔ سویڈش اکیڈمی کے مطابق این کارسن کا بیشتر ادبی کام ماہرِ لسانیات کی الفاظ سے وابستگی اور شاعر کی نئے معانی کی تلاش کے امتزاج پر مرکوز ہے۔ ان کے منفرد اسلوب کی مثال 2019 میں پیش کیا گیا فن پارہ نورما جین بیکر آف ٹرائے بھی ہے، جس میں یوریپیڈیز کے ڈرامے ہیلن میں بیان کردہ ہیلن آف ٹرائے کی کہانی کو معروف اداکارہ اور گلوکارہ مارلن منرو کی زندگی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ این کارسن رواں برس نوبیل انعام کے لیے مضبوط امیدواروں میں شامل تھیں اور اب وہ الیگزینڈر سولژنیتسن، ایلس منرو اور ارنسٹ ہیمنگوے جیسے ممتاز ادبی شخصیات کی صف میں شامل ہوگئی ہیں۔ ادب، سائنس اور امن کے نوبیل انعامات سویڈش موجد اور صنعت کار الفریڈ نوبیل کی وصیت کے تحت قائم کیے گئے اور 1901 سے دیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ برس ادب کا نوبیل انعام ہنگری کے معروف مصنف لاسلو کراسنہوری کو دیا گیا تھا۔