
وین رائٹ، 19 اکتوبر 2026 (نوشین): کینیڈا کے صوبے البرٹا میں واقع کینیڈین فورسز کے فوجی اڈے وین رائٹ میں خوفناک آتش زدگی کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک جبکہ 19 افراد کی حالت تشویشناک ہوگئی، حادثے کے بعد مجموعی طور پر 39 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق آگ ہفتے کی دوپہر فوجی اڈے کے تربیتی علاقے میں گھاس سلگنے سے شروع ہوئی، جو تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اس واقعے کو ملک میں امن کے زمانے کے دوران فوج کو پیش آنے والے بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے آگ کو مزید بھڑکایا، جبکہ شعلے صرف 30 سے 60 سیکنڈ میں تقریباً ایک کلومیٹر تک پھیل گئے۔ ایڈمنٹن میں قائم فرسٹ کینیڈین ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل ویڈ رٹ لینڈ نے آگ کے غیرمعمولی طور پر تیزی سے پھیلنے کو ایک نادر واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سے پہلے ایسا منظر نہیں دیکھا۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت سارجنٹ مورگن وونگ، پرائیویٹ شان فیرل، پرائیویٹ ایڈن گولڈنگ اور پرائیویٹ ہیڈن لائیک مارک کے ناموں سے ہوئی ہے۔ وزیراعظم کارنی نے فوجیوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قومی عمارتوں پر پرچم سرنگوں کرنے کا حکم دیا۔ البرٹا کی وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ زخمیوں میں سے متعدد کو کئی ہفتوں یا مہینوں تک خصوصی اور انتہائی نگہداشت پر مشتمل طبی علاج کی ضرورت ہوگی۔ آگ لگنے کے وقت پرنسس پیٹریشیا کی کینیڈین لائٹ انفنٹری کی تیسری بٹالین کے 85 فوجی اڈے پر اصلی گولہ بارود کے ساتھ شدید جنگی تربیت میں مصروف تھے۔ یہ فوجی لٹویا میں تعیناتی کی تیاری کر رہے تھے، جہاں کینیڈا اس وقت اپنا سب سے بڑا بین الاقوامی فوجی آپریشن انجام دے رہا ہے۔ حکام کے مطابق گھاس میں آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم بیرونی مداخلت کے شبہے کو مسترد کردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس واقعے کا علاقے کے تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے سے تعلق ہونے کا امکان نہیں۔ فوجی اور شہری فائر فائٹرز نے انتہائی مشکل حالات میں رات بھر آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کے مطابق ہنگامی کارروائیوں میں 22 زمینی ایمبولینسوں اور آٹھ فضائی ایمبولینسوں نے حصہ لیا، جبکہ ایڈمنٹن اور سسکاٹون سے فضائی طبی ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں معاونت کے لیے پہنچیں۔ زخمیوں کو ایڈمنٹن، وین رائٹ، کیلگری اور ریڈ ڈئیر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ فوجی سرچ اینڈ ریسکیو اہلکاروں نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے جائے وقوعہ پر پیراشوٹ کے ذریعے اتر کر مدد فراہم کی۔ ایڈمنٹن کے محکمہ صحت نے وین رائٹ سے بڑی تعداد میں زخمیوں کی آمد کے پیش نظر اجتماعی حادثے کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ’’کوڈ اورنج‘‘ نافذ کردیا۔ 2021 کے اعدادوشمار کے مطابق اس فوجی اڈے پر 1,310 فوجی اور شہری اہلکار تعینات تھے، جبکہ یہاں کینیڈین مینیوور ٹریننگ سینٹر بھی قائم ہے، جہاں فوجی تربیت اور جنگی مشقیں کرائی جاتی ہیں۔ حکام کے مطابق آگ سے متاثر ہونے والے اہلکار کینیڈا کے مختلف فوجی اڈوں سے تعلق رکھتے تھے۔ دوسری جانب تقریباً 6,600 آبادی والے قصبے وین رائٹ کی انتظامیہ نے بتایا کہ آگ فوجی اڈے کی حدود سے نکل کر قریبی علاقے تک پہنچ گئی، تاہم کسی علاقے کو خالی کرانے کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔ مقامی حکام نے اتوار کو کہا کہ فی الحال آگ کے موجودہ حدود سے آگے پھیلنے کا امکان نہیں۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔