
اسلام آباد، 9 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں تعینات ہیں اور مختلف ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کوئی نیا اتحاد نہیں بلکہ دفاعی تعاون کی ایک مضبوط تاریخ پر مبنی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معاہدے کے تحت کیے جانے والے تمام اقدامات سختی سے دفاعی نوعیت کے ہوں گے، جبکہ فوجی دستوں کی تعیناتی اور ان کے استعمال سمیت عملی امور کا فیصلہ متعلقہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں یہ معاہدہ علاقائی استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے اور ممکنہ خطرات کے خلاف اجتماعی دفاع کی صلاحیت فراہم کرے گا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے مخالفانہ کارروائیوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے وضاحت کی کہ اس انتظام کا مقصد کسی ملک کو دشمن یا اتحادی قرار دینا نہیں ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مملکت کا دفاع معاہدے کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے حل کی کوششوں کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرتا رہا ہے اور اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا چاہتا ہے اور سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کے حصول کی کوششوں میں پاکستان نے ایک دیانت دار اور غیرجانبدار ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔