
اسلام آباد, 3 اپریل 2026(کامران راجہ): چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو نے آج ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین سینیٹ نے معزز سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے رومانیہ کے معروف میڈریگل–مارین کانسٹنٹن کوائر کی جانب سے پاکستان کے قومی ترانے کی ریکارڈنگ اور کورل اسکور کی پیشکش پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک منفرد ثقافتی کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے سفیر، کوائر کے فنکاروں اور رومانیہ کے حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے مئی 2025 کے صدارتی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی رومانیہ کی نئی حکومت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، رومانیہ کو مشرقی یورپ اور بحیرہ اسود کے خطے میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے، جو علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے پاکستان اور رومانیہ کے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں، جبکہ یورپی یونین کی سطح پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت میں رومانیہ کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔
سیاسی روابط کے فروغ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں رومانیہ کے لیے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے پارلیمانی گروپس کے درمیان آن لائن روابط بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے امن کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے اور پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور مکالمے کو ہی واحد مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے افغان مہاجرین کے دیرینہ مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے 35 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، اور اس مسئلے کے پائیدار اور باوقار حل کے لیے عالمی برادری کا تعاون ناگزیر ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے بتایا کہ انہیں بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کا متفقہ چیئرمین منتخب کیا گیا اور پاکستان کو گزشتہ سال اسلام آباد میں اس اہم کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امن، سلامتی اور ترقی مشترکہ عالمی اہداف ہیں، جن کے حصول کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔
معاشی و تجارتی تعلقات کے فروغ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط، تجارتی میلوں اور نمائشوں میں شرکت کو فروغ دینا چاہیے۔
تعلیم اور محنت کے شعبوں میں تعاون کے حوالے سے انہوں نے پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کے لیے رومانیہ میں مواقع فراہم کرنے کو سراہا اور کہا کہ پاکستان مزید ہنرمند افراد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے جامعات کے درمیان تعاون اور تعلیمی روابط کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور اہم عالمی امور پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مسلسل مکالمے، باہمی تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دیا جائے گا۔
ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ کی مشیر و سفیر برائے بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس، مصباح کھر بھی موجود تھیں۔