Thursday, October 22

پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کے تیسرے مرحلے سے قبل حکومت کا جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے دوبارہ رابطہ

Government Approaches JI for Fresh Talks on Petroleum Levy Ahead of Third Phase of Protest

لاہور، 22 اکتوبر 2026(غفران): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے قبل جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کے مطابق اجلاس میں پٹرولیم لیوی کے معاملے پر بات چیت ہوگی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی ملاقات بھی اسلام آباد میں طے ہے۔ حکومت کی جانب سے دوبارہ رابطہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کے تیسرے مرحلے کا آغاز جمعہ 23 اکتوبر سے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے تحت ملک بھر کے تمام اضلاع میں دھرنے دیے جائیں گے۔ وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے ستمبر کے اوائل میں مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا، جب جماعت اسلامی نے ملک گیر ہڑتال کی تیاری شروع کی تھی۔ ان کمیٹیوں کا مقصد پٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے تجاویز پیش کرنا تھا۔ تاہم 22 ستمبر کو جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جماعت کے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا قافلہ ملتان پہنچ چکا تھا۔ لانگ مارچ کو وزیراعظم سے ملاقات تک ملتوی کیا گیا تھا۔ اس وقت حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا تھا کہ وزیراعظم نے پاکستان واپسی کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ جماعت اسلامی وزیراعظم سے ملاقات کرے گی، تاہم عوام کو ریلیف دلانے کے لیے احتجاجی تحریک ختم نہیں کرے گی۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔ جماعت اسلامی اس سے قبل مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ملک بھر میں 510 مقامات پر دھرنے دے چکی ہے اور ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کر چکی ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت سے تحریری یقین دہانیاں حاصل کرے گی۔