Saturday, October 10

پاکستان کا اقوام متحدہ سے خطے میں اسلحے کی دوڑ روکنے کا مطالبہ، مسئلہ کشمیر پر مذاکرات پر زور

Pakistan Urges UN to Prevent Regional Arms Race, Calls for Dialogue on Kashmir

نیویارک، 10 اکتوبر 2026 (غفران): پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اسلحے کی دوڑ روکنے کے لیے اقدامات کرے اور بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو فروغ دے، جبکہ اپنی دفاعی ضروریات کے مطابق صلاحیت برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ دنیا بھر میں جنگوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، بین الاقوامی قانون کمزور پڑ رہا ہے اور تحمل و برداشت کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سامنے آئی۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اقوام متحدہ کے منشور سے مطابقت رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے جارحانہ فوجی نظریے اور بڑے پیمانے پر فوجی توسیع کے باعث خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اسلحے کی دوڑ کا خواہاں نہیں، تاہم اپنی سکیورٹی ضروریات کے مطابق دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ جوہری صلاحیتوں کے حامل خطے میں یہ تصور کرنا خطرناک ہے کہ جنگ کو مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ علاقائی تنازعات پر پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر بامعنی مذاکرات کا مطالبہ کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت اور تحمل کی اہمیت پر زور دیا۔