اسلام آباد، 31 اکتوبر 2026 (غفران): پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل موجودگی اور سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان حکومت اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں افغانستان سے متعلق تعاملی مکالمے کے دوران پاکستانی نمائندے محمد جواد اجمل نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان سے شروع ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے طالبان حکام پر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ قریبی روابط رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ مبینہ طور پر بیرونی عناصر کی حمایت سے افغان سرزمین پر آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جواد اجمل نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ان گروہوں کی کھلے عام مذمت نہ کرنا دہشت گردی کے خلاف ان کے عزم پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بالخصوص خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیوں کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بنیادی آزادیوں اور وقار سے محروم کرنا بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اسلامی اصولوں اور اقدار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے جولائی میں اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے منظور کردہ اسلام آباد اعلامیے میں افغان خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ دوسری جانب افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی طالبان نے منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ عزم ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ طالبان حکومت کی پابندیوں پر مبنی پالیسیوں میں تبدیلی تک اس کے ساتھ تعلقات کو معمول پر نہ لایا جائے۔ رچرڈ بینیٹ نے خبردار کیا کہ طالبان کے حالیہ احکامات نے خواتین کے حقوق کو مزید کمزور کیا ہے، انہیں تشدد کے خطرات سے دوچار کیا ہے اور بدسلوکی پر مبنی تعلقات سے نکلنے کی صلاحیت محدود کر دی ہے۔ انہوں نے کم عمری کی شادیوں کو قبول کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کی رپورٹ میں افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں من مانی گرفتاریاں اور حراست، تشدد، جنسی تشدد، جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔ رپورٹ میں آزادی اظہار پر پابندیوں، معذور افراد کو معاشرتی سرگرمیوں سے خارج کرنے اور نسلی، مذہبی، لسانی و دیگر محروم طبقات کے خلاف امتیازی سلوک اور ظلم و ستم پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ پاکستان نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال طالبان حکام کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے لاتعلقی کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کا خطرہ پورے خطے کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔
