Tuesday, November 3

پاکستان سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے خلاف قانونی جنگ جاری رکھے گا، اٹارنی جنرل

Pakistan to Continue Legal Battle with India Over Indus Waters Treaty: Attorney General

لاہور، 31 اکتوبر 2026 (نوشین): اٹارنی جنرل پاکستان منصور اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر بھارت کے خلاف قانونی جنگ جاری رکھے گا اور نئی دہلی کو معاہدے کی پاسداری کا پابند بنانے کے لیے تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ لاہور میں ’’سندھ طاس معاہدہ اور قومی سلامتی‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کو منظم کرنے کے لیے سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا، جس کی اہم شقوں کے تحت کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس میں تبدیلی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے حوالے سے بھارت کا موجودہ مؤقف عالمی برادری کے سامنے ہے، جبکہ پاکستان کو اس معاملے پر شدید تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کی جانب سے امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی دنیا کے سامنے ہیں۔ منصور اعوان نے واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحفظ اور اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے قانونی راستے اختیار کرتا رہے گا اور بھارت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے زرعی پانی کا تقریباً 90 فیصد آبپاشی کے نظام کے ذریعے استعمال کرتا ہے، اس لیے پانی کے بہاؤ میں معمولی رکاوٹ یا کمی بھی ملکی زرعی شعبے کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کا مسئلہ صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ ملک کے ہر شہری سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے آبی وسائل کا تحفظ قومی اہمیت کا معاملہ ہے۔ اٹارنی جنرل نے پاکستان میں پانی کے تحفظ اور بچت کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دستیاب آبی وسائل کے بہتر انتظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے قانونی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو یکطرفہ طور پر کسی بین الاقوامی معاہدے سے دستبردار ہونے یا اس میں تبدیلی کرنے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے مؤقف پر پاکستان کے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔