Thursday, October 15

ٹرمپ کی سعودی ولی عہد سے رابطے کے بعد حوثی حملوں کی مذمت، اتحادی افواج نے میزائل مار گرایا

Trump Condemns Houthi Attacks After Call with Saudi Crown Prince as Coalition Intercepts Missiles

واشنگٹن، 13 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول قرار دیا ہے، جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ریاض کے اوپر ایک میزائل مار گرانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ان واقعات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ حوثی باغیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا یمن میں ان کے خلاف سعودی فوجی کارروائیوں میں شامل ہوا تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کو فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یمن کے خلاف مبینہ جارحیت میں امریکا کی شمولیت کی صورت میں فوری جوابی کارروائی کی جائے گی، جس کا ہدف امریکا اور خطے میں اس کے مفادات ہوں گے۔ انہوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے ملازمین اور کارکنوں کو ان مقامات سے دور رہنے کی تنبیہ بھی کی اور انہیں ممکنہ اہداف قرار دیا۔ یہ دھمکیاں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک مہلک حملے کے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں اطلاعات کے مطابق کم از کم 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے حملے کی مذمت کی اور اسے ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ان کی بات ہوئی ہے، تاہم گفتگو کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ دوسری جانب پیر کی رات ریاض کے اوپر دوبارہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ حوثی باغیوں نے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے ایک اور حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ محمد البخیتی کے مطابق ان حملوں کا مقصد سعودی ولی عہد کو یہ پیغام دینا تھا کہ وہ یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں محفوظ مقام پر رہ کر جاری نہیں رکھ سکتے۔ تازہ دھمکیوں اور میزائل حملوں نے حوثی باغیوں، سعودی عرب اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔