
اسلام آباد، 3 نومبر 2026 (غفران): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا رواں سال کے اختتام تک اسرائیل کو سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی مالی امداد دینا بند کردے گا، اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے۔ امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے پروگرام ’’فاکس اینڈ فرینڈز‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی ماہ قبل امداد ختم کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم ضرورت پڑنے پر امریکا اسرائیل کی مدد جاری رکھے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اب اس مالی امداد کی ضرورت نہیں اور بعض ڈیموکریٹک اور بائیں بازو کے سیاست دان امریکی امداد کو ری پبلکنز پر تنقید کے لیے سیاسی معاملہ بنا رہے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ صدر ٹرمپ کس مخصوص امدادی پروگرام کی بات کررہے ہیں اور سال کے اختتام پر اسے کس طرح بند کیا جائے گا۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجودہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر فوجی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس کی مدت 2028 تک ہے۔ اس کے بعد امریکی امداد کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ وائٹ ہاؤس اور نیتن یاہو کے دفتر نے فوری طور پر اس اعلان پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر خصوصاً ڈیموکریٹک ووٹرز میں تنقید بڑھ رہی ہے۔ جون میں کوئنی پیاک یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق 48 فیصد امریکی ووٹرز اور 66 فیصد ڈیموکریٹس کا خیال تھا کہ امریکا اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کررہا ہے، جبکہ 2017 میں یہ شرح بالترتیب 16 اور 20 فیصد تھی۔ امریکی ریاست مشی گن میں وسط مدتی انتخابات کے امیدوار عبدل السید بھی اسرائیل کو غیر مشروط فوجی امداد دینے کے مخالف ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ امریکی وسائل کو پہلے اپنے شہریوں کی ضروریات پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ ٹرمپ نے امداد بند کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے عبدل السید کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسرائیل کو اس رقم کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ کی سیاسی تحریک میک امریکا گریٹ اگین کے بعض ارکان بھی اسرائیل کی پالیسیوں اور ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی کردار پر تنقید کررہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی اکتوبر میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اسرائیل کو مستقبل میں امریکی مالی امداد کے بغیر دفاعی اخراجات پورے کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ امریکی قانون کے تحت اسرائیل کے لیے امداد کی منظوری کے باوجود فنڈز جاری کرنے کے لیے کانگریس کو ہر سال بجٹ کی منظوری دینا ضروری ہے۔ ٹرمپ کا تازہ اعلان امریکا اور اسرائیل کے دیرینہ مالی اور فوجی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔