Monday, October 19

ٹرمپ نے روس سے متعلق اہم پابندیوں اور محصولات پر عمل درآمد سے قبل چھوٹ دے دی

Trump Waives Key Russia-Related Sanctions and Tariffs Before They Take Effect

واشنگٹن، 17 اکتوبر 2026 (نوشین): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ دستخط کردہ قانون کے تحت نافذ ہونے والی روس سے متعلق اہم پابندیوں اور محصولات پر عمل درآمد سے چند روز قبل چھوٹ دے دی ہے۔ ان اقدامات میں روسی مصنوعات پر محصولات اور روسی تیل و گیس خریدنے والے ممالک کے خلاف ممکنہ پابندیاں بھی شامل تھیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعے کو جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر میں ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ وقت میں یہ چھوٹ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ اس قانون کا مقصد 2022 میں شروع ہونے والی یوکرین جنگ کے معاملے پر روس پر دباؤ بڑھانا تھا، تاہم ٹرمپ نے حالیہ عرصے میں ماسکو کے حوالے سے نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا ہے اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی پر کھلے عام تنقید بھی کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ان اقدامات کے نفاذ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکی شہری پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ستمبر کے وسط میں ٹرمپ نے ’’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘‘ پر دستخط کیے تھے۔ اس قانون کے تحت روسی تیل یا گیس کے پانچ بڑے خریدار ممالک سے امریکہ درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ روسی توانائی خریدنے یا ماسکو کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے ممالک کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ انہوں نے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اس وقت چھوٹ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ حکم کے مطابق یہ چھوٹ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک صدر یا اعلیٰ امریکی حکام یہ فیصلہ نہیں کر لیتے کہ مزید کارروائی مناسب ہے۔ روسی تیل کے بڑے خریدار چین اور بھارت نے اس قانون پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ نے بین الاقوامی قانون کی بنیاد کے بغیر دوسرے ممالک پر امریکی دائرہ اختیار مسلط کرنے کی مخالفت کی ہے، جبکہ بھارت نے خبردار کیا ہے کہ نئے محصولات سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ قانون کے تحت صدر کانگریس کو مطلع کرکے پابندیوں سے چھوٹ دے سکتے ہیں، اگر ان کے نزدیک پابندیوں کا نفاذ امریکی قومی مفاد میں نہ ہو۔ امریکی ڈیموکریٹ رکنِ ایوانِ نمائندگان ڈان بیئر نے ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن کے سامنے جھک رہے ہیں اور یوکرین کے خلاف روسی جنگ پر ماسکو کو جواب دہ ٹھہرانے کی کانگریس کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ٹرمپ کو حالیہ ڈیزل معاہدے پر بھی بعض امریکی سینیٹرز، جن میں ریپبلکن ارکان بھی شامل ہیں، کی تنقید کا سامنا ہے۔ اس معاہدے کے تحت عالمی منڈی میں ایندھن کی فراہمی بڑھانے اور قیمتیں کم کرنے کے لیے روسی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات روس کی جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب روسی صدر کے سرمایہ کاری امور کے نمائندے کیرل دمترییف نے ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’’واقعی ایک تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے روس اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعاون عملاً ختم ہو سکتا تھا۔