Thursday, October 15

وفاقی آئینی عدالت نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے دی

Federal Constitutional Court Declares Bushra Bibi’s Sentence Suspension Plea Inadmissible

اسلام آباد، 14 اکتوبر 2026 (نوشین): وفاقی آئینی عدالت نے دلائل سننے کے بعد بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے دی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیے، جبکہ سلمان اکرم راجہ بھی عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے دوران سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتیں روایتی طور پر خواتین کے معاملے میں نرمی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے طرزِ عمل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 ماہ کے دوران نیب نے سماعتوں کے دوران بار بار التوا طلب کیا اور سزا معطلی کی درخواست پر بھی اعتراض اٹھایا۔ وکیل نے کہا کہ سزا سنائے جانے کے بعد بشریٰ بی بی کے لیے ضمانت حاصل کرنے کی قانونی بنیادیں موجود ہیں اور انہوں نے خاتون ہونے کی بنیاد پر سزا معطل کرنے کی استدعا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے کی کارروائی زیادہ تر بانی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر اپیل کے گرد گھومتی رہی ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے وکیل کو ہدایت کی کہ اس مرحلے پر مقدمے کے میرٹس پر دلائل دینے سے گریز کیا جائے، کیونکہ عدالت سزا معطلی کی درخواست کی سماعت کر رہی ہے۔ جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ مرکزی اپیل کتنی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر کی گئی۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے فریقین کو عدالتی حکم کا انتظار کرنے کی ہدایت کی اور سلمان صفدر سے تحریری دلائل جمع کرانے کو کہا۔ بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے دی۔