
اسلام آباد، 12 اگست 2026 (غفران): وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ پالیسی کا اعلان کردیا، جس کے تحت افرادی قوت میں خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹہ جبکہ نوجوانوں کے اسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے 10 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔اسلام آباد میں عالمی یوم نوجوانان کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قومی یوتھ پالیسی کا مقصد نوجوانوں کے لیے تعلیم اور معاشی مواقع میں مساوات پیدا کرنا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں باصلاحیت نوجوان موجود ہیں جو معیاری تعلیم کی فراہمی کی صورت میں عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے امیر اور کم مراعات یافتہ خاندانوں کے بچوں کو دستیاب تعلیمی مواقع کے درمیان فرق ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دانش اسکولز اشرافیہ کے تعلیمی اداروں کے متبادل کے طور پر قائم کیے گئے تھے اور اب ان کا دائرہ کار گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بلوچستان تک بڑھایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان اداروں میں مفت تعلیم فراہم کی جائے گی اور تعلیم کا معیار ایلیٹ اداروں کے برابر رکھا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے مزید اعلان کیا کہ پاکستان بھر سے ایک ہزار طلبہ کو سرکاری اخراجات پر چین بھیجا جائے گا، جہاں وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی تعلیم حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی پاکستانی طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر جدید زرعی تعلیم کے حصول کے لیے چین بھیجا گیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے اقدامات نوجوانوں کو عالمی معیشت میں مقابلے کے لیے درکار جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔