
اسلام آباد، 13 ستمبر 2026 (غفران): نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انٹیگریٹڈ سسٹم پلان (آئی ایس پی) 2025-2035 کی مشروط منظوری دے دی ہے، جس کے تحت آئندہ 11 برسوں کے دوران پاکستان کے بجلی پیداوار اور ترسیل کے شعبوں میں 58 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ نیپرا کے مطابق منصوبے کے تحت 26,045 میگاواٹ نئی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت شامل کرنے کی تجویز ہے، جس میں 17,485 میگاواٹ کمٹڈ اور 8,560 میگاواٹ آپٹمائزڈ صلاحیت شامل ہوگی، جبکہ 2,577 میگاواٹ پرانی پیداواری صلاحیت مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ منصوبے کے مطابق 2035 تک ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 62,657 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ 8,120 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ صلاحیت بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ اضافی بجلی پیداوار کے منصوبوں کے لیے 47 ارب ڈالر سے زائد جبکہ ترسیلی منصوبوں کے لیے 10.65 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جن میں ترسیلی نظام کو مضبوط بنانا اور نئے گرڈ اسٹیشنز کا قیام شامل ہے۔ آئی ایس پی میں گوادر اور مکران کے لیے 40 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور دھابیجی میں 269 میگاواٹ کا ونڈ سولر ہائبرڈ منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم نیپرا نے 900 ملین ڈالر کے مجوزہ بیٹری انرجی اسٹوریج منصوبے کی منظوری نہیں دی اور کہا کہ ایسے منصوبوں کے لیے جامع تکنیکی اور معاشی مطالعات ضروری ہیں۔ نیپرا ارکان نے انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر کی جانب سے بڑے منصوبوں کو شامل یا خارج کرنے پر بھی سوالات اٹھائے اور قومی توانائی منصوبے میں کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) کو نظر انداز کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ سی سی آئی کی منظوری کے بغیر قومی بجلی پالیسی میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ نیپرا چیئرمین سمیت تین ارکان نے فیصلے میں اختلافی نوٹ بھی جمع کرائے، جن میں بالخصوص سی سی آئی کی منظوری کے بغیر منصوبوں کو شامل یا خارج کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم مجموعی طور پر منصوبے کی منظوری دے دی گئی۔