ممبئی، 19 اکتوبر 2026 (نوشین): بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف ممبئی کے علاقے جوہو میں فائرنگ کے ایک واقعے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور اور ایک راہ گیر زخمی ہوگئے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ شام تقریباً سات بجے اس وقت پیش آیا جب ٹائیگر شروف اپنے کام کی جگہ سے روانہ ہو رہے تھے۔ بھارتی اخبار دی ہندو نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ممبئی زون ٹو کے ڈپٹی کمشنر پولیس موہت گَرگ کے مطابق اداکار کے ڈرائیور فردوس کے بائیں ہاتھ پر چوٹ آئی، جبکہ چوہان نامی ایک راہ گیر بھی زخمی ہوا۔ دونوں زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس نے ممبئی پولیس کمشنر دیون بھارتی کو واقعے کی تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور فلمی صنعت کو دھمکانے کی کوششیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی پولیس کی مدد سے شہر نے 1990 کی دہائی میں گینگ وار کے دور پر قابو پایا تھا اور حکام جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو دوبارہ سرگرم نہیں ہونے دیں گے۔
دریں اثنا، آل انڈین سائن ورکرز ایسوسی ایشن نے فائرنگ کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل حملوں کے باعث بالی ووڈ شخصیات میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے۔ تنظیم نے ماضی کے واقعات کا حوالہ بھی دیا، جن میں اداکار سلمان خان کی باندرہ میں واقع رہائش گاہ کے باہر فائرنگ، اداکار سیف علی خان پر ان کے گھر میں چاقو سے حملہ، فلم ساز روہت شیٹی کی جوہو میں واقع رہائش گاہ کے باہر فائرنگ اور کامیڈین کپل شرما کے کیفے پر بار بار حملے شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق ان واقعات سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ فلمی صنعت سے وابستہ شخصیات کو دھمکانے اور بھتہ وصول کرنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت اور پولیس پر زور دیا کہ وہ سخت کارروائی کریں، مبینہ حملہ آوروں اور فائرنگ کا حکم دینے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے، اداکاروں اور ان کے اہل خانہ کی سکیورٹی بہتر بنائی جائے اور بھتہ خوری میں ملوث نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جائے۔ دوسری جانب مقامی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک غیر مصدقہ پوسٹ میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا اور مبینہ طور پر دھمکی دی گئی کہ ممبئی کی فلمی صنعت سے وابستہ وہ افراد جو سلمان خان کے ساتھ کام کرتے ہیں اور گروہ کے مطالبات نہیں مانتے، انہیں بھی ایسے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکام نے تاحال سوشل میڈیا پر کیے گئے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ فائرنگ کے واقعے کی وجوہات اور دیگر تفصیلات کی تحقیقات جاری ہیں۔
