
لاہور، 13 اکتوبر 2026 (غفران): پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس منگل کے روز ملتان کے علاقے شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 مسافر جاں بحق اور 41 زخمی ہوگئے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے 4 مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے حادثے کی تحقیقات کے لیے فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے کو انکوائری افسر مقرر کردیا۔ پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں میں کم از کم 13 بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے 3 کو اسپتال سے فارغ کردیا گیا، جبکہ 38 زخمیوں کو ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا۔ ٹرین کے ڈرائیور رضوان عباس نے بتایا کہ ٹرین تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کررہی تھی کہ شیر شاہ اسٹیشن کے علاقے سے گزرتے ہوئے انہیں اچانک ایک زور دار جھٹکا محسوس ہوا۔ ان کے مطابق انہوں نے فوری طور پر بریک لگائی اور ٹرین روک دی، تاہم انجن سے باہر نکل کر دیکھا تو مسافر بوگیاں پٹری سے اتر چکی تھیں۔ ڈرائیور نے دعویٰ کیا کہ ٹرین درست حالت میں تھی اور حادثے کے وقت سگنل بھی کلیئر تھا۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی انشورنس پالیسی کے مطابق جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمی مسافروں کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ وزیر ریلوے حادثے کی جگہ روانہ ہوگئے تاکہ امدادی کارروائیوں اور صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔ دوسری جانب 500 سے زائد مسافروں کے لیے متبادل ٹرین شیر شاہ ریلوے اسٹیشن سے روانہ کردی گئی، جبکہ سفر جاری رکھنے کے خواہش مند مسافروں کے لیے ملتان ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بسوں کا انتظام بھی کیا گیا۔ ملتان کے کمشنر عامر کریم خان نے متاثرہ مسافروں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور متعلقہ حکام کو عارضی رہائش، ٹرانسپورٹ، ناشتے اور فوری طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ پاکستان ریلوے نے مسافروں کی رہنمائی اور مدد کے لیے بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر چوبیس گھنٹے فعال معلوماتی اور امدادی مراکز قائم کردیے، جبکہ متبادل سفری انتظامات اور ضرورت کے مطابق ٹکٹوں کی رقم واپس کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ ریلوے حکام کے مطابق لودھراں اور جہانیاں کے راستوں پر ٹرینوں کی آمدورفت مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے۔ حالیہ حادثے نے ایک مرتبہ پھر پاکستان ریلوے میں ٹرینوں اور پٹریوں کی دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یکم اکتوبر کو شالیمار ایکسپریس اور پاکستان ایکسپریس پٹری سے اترنے کے واقعات کے بعد بڑے حادثات سے بال بال بچ گئی تھیں، جبکہ جعفر ایکسپریس کو بھی گوجر خان کے قریب معمولی حادثے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جولائی اور اگست کے دوران ہزارہ ایکسپریس، بلھے شاہ پسنجر، تیزگام، شالیمار ایکسپریس اور راول ایکسپریس سمیت متعدد مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے حادثات اور پٹری سے اترنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو افسر اس سے قبل بعض حادثات کی وجہ گزشتہ پانچ برس کے دوران مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کو قرار دے چکے ہیں۔ مسلسل پیش آنے والے ان واقعات کے باعث ریلوے ٹریکس کے معائنے، بروقت مرمت اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔