Wednesday, October 21

ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے کا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

Employer Accused of Crushing 15-Year-Old Orphan to Death Killed in Alleged Police Encounter

بہاولپور، 21 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم توقیر نذیر بہاولپور کے نادرن بائی پاس پر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا، پولیس حکام کے مطابق ملزم کو واقعے کے بعد گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں سے جوڈیشل مجسٹریٹ نے اسے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا، تاہم وہ بعد ازاں پولیس حراست سے فرار ہوگیا۔ ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی عرفان اکبر کے مطابق پولیس نے بہاولپور کے نادرن بائی پاس پر دو موٹر سائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کی تو ملزمان نے مبینہ طور پر فرار ہوتے ہوئے فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ملزم توقیر اپنے ہی ساتھی کی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا، جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ واقعہ 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کے قتل سے متعلق ہے، جو ایک غیر سرکاری تنظیم کے زیر انتظام یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا۔ ملتان کے سی پی او اختر فاروق کے مطابق بچے کو واقعے سے سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ ملزم مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا اور ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچوں کو فنی تربیت فراہم کرتا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق مبینہ غیر انسانی سلوک سے تنگ آکر جب بچے نے کام چھوڑا تو ملزم نے اس کا تعاقب کیا اور گاڑی تلے کچل دیا۔ ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں نصب مختلف سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں بچے کو بھاگتے اور ملزمان کو اس کا تعاقب کرتے دیکھا گیا، جبکہ ایک تیز رفتار گاڑی کے بچے کو کچلنے کے مناظر بھی ریکارڈ ہوئے۔ مختلف زاویوں سے حاصل ہونے والی فوٹیج نے اس دعوے پر سوالات اٹھائے کہ یہ محض حادثہ تھا، اور مبینہ طور پر دانستہ قتل کی نشاندہی کی۔ واقعے کے بعد عوامی سطح پر شدید غم و غصہ سامنے آیا، جبکہ اطلاعات کے مطابق عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلا نے بھی ملزم کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ پولیس نے واقعے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی تھیں۔ حکام اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ بچے کو ملزم کے پاس کام سیکھنے کے لیے بھیجنے کے کیا حالات تھے اور آیا اس معاملے میں یتیم خانے کے عملے کا کوئی کردار تھا۔ قتل اور مبینہ پولیس مقابلے سے متعلق تمام حقائق سامنے لانے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔