Monday, October 19

مصر کا سعودی عرب کی حمایت کا اعلان، پارلیمان میں فوجی تعاون کی اجازت پر غور

Egypt Pledges Support for Saudi Arabia as Parliament Weighs Military Authorisation

قاہرہ، 19 اکتوبر 2026 (غفران): مصر نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ علاقائی کشیدگی میں اضافے اور یمن کی ایران نواز حوثی تحریک کے حملوں میں شدت کے بعد مصری پارلیمان سعودی عرب کی درخواست پر فوجی مدد فراہم کرنے کی اجازت دینے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔ مصری صدارتی دفتر کے بیان کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنے خلیجی اتحادی سعودی عرب کے دفاع میں مدد کے لیے مسلح افواج کو اختیار دینے پر غور کرنے کی غرض سے پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ ارکانِ پارلیمان اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر اتوار کو ووٹنگ متوقع تھی، تاہم بحث پیر کو بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ یہ اعلان مصر کی قومی دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کی صدارت صدر السیسی نے کی اور اس میں پارلیمان کے اسپیکر، وزیراعظم اور آرمی چیف نے شرکت کی۔ صدارتی بیان میں کہا گیا کہ مصر سعودی عرب کی سلامتی، وسائل، علاقائی سالمیت اور مقدس اسلامی مقامات کے تحفظ کے لیے ضروری اور ممکنہ تعاون فراہم کرے گا۔ صدر السیسی نے کہا کہ مصر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی رہنمائی کے مطابق اقدامات کرے گا۔ دوسری جانب مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے علاقائی صورتِ حال اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد اور دارالحکومت صنعاء سمیت شمالی یمن کے بڑے حصے پر قابض حوثی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ تازہ جھڑپوں کے دوران ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی اور جنگ بندی کے خاتمے کے بعد بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری گزرگاہ باب المندب کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مصر کی جانب سے کسی ممکنہ فوجی کارروائی میں شرکت علاقائی تنازع کو مزید وسیع کر سکتی ہے اور ملک کو حوثیوں کے جوابی حملوں کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے، جن کے میزائل اور ڈرون خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس تنازع کے دوران کئی عرب ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے حملوں کا سامنا کر چکی ہیں۔ مصر اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تزویراتی اور اقتصادی تعلقات قائم ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر دولت مند خلیجی ریاستوں نے 2013 میں سابق مصری صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مصر کو اربوں ڈالر کی مالی امداد، سرمایہ کاری اور مرکزی بینک میں رقوم کی صورت میں تعاون فراہم کیا تھا۔ مصر نے 2015 میں یمن کی حکومت کی حمایت کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں بھی شمولیت اختیار کی تھی، تاہم خانہ جنگی میں اس کا براہِ راست جنگی کردار محدود رہا۔ دوسری جانب سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مدد طلب کرنے کے بعد پاکستان سمیت علاقائی اتحادیوں سے بھی رابطے کیے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے گزشتہ ماہ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے امریکی حملوں کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم واشنگٹن نے اہداف کی نشاندہی میں معاونت اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی پیشکش کی تھی۔ دریں اثنا، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اتوار کو ابوظہبی کا دورہ کیا اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ملاقات گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان کے دورۂ ریاض کے بعد ہوئی، جو دونوں خلیجی طاقتوں کے درمیان گزشتہ سال پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے بعد اعلیٰ سطح پر روابط کی بحالی کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ خطے میں پھیلتے ہوئے تنازع اور علاقائی سلامتی و توانائی کی فراہمی کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر مصر کی پارلیمان میں جاری مشاورت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔